اسلام آباد: اسرائیل نواز سخت گیر لابنگ مؤقف سے وابستہ سمجھے جانے والے نامور امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی جانب سے پاکستان کو ایک ایسے جغرافیائی و سیاسی بیانیے میں گھسیٹنے کی کوششیں سامنے آئی ہیں، جس سے نہ تو پاکستان کا کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وہ اس میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق لنڈسے گراہم کے حالیہ بیانات اس مخصوص اور منظم کوشش کی عکاسی کرتے ہیں جس کے تحت ایران سے متعلق خطے میں ہونے والی کشیدگی میں کمی کو ابراہم معاہدوں کے تحت وسیع تر اسرائیل نواز نارملائزیشن ایجنڈے سے زبردستی جوڑا جا سکے۔
اسرائیل نواز لابی کی کوشش
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دراصل اسرائیل نواز لابی کی ایک آخری اور مایوس کن کوشش محسوس ہوتی ہے، جس کے ذریعے وہ خطے میں امن اور کشیدگی کے خاتمے کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے مشروط کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے یہ حقیقت بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اسرائیل سے وابستہ عالمی حلقے کسی بھی امن معاہدے کی حمایت صرف اسی صورت میں کریں گے جب اس میں نارملائزیشن کا ایجنڈا شامل ہو۔
تاہم پاکستان پر اس مخصوص بیانیے کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی تمام تر کوششیں، مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے مستقل، تاریخی اور اصولی مؤقف کو یکسر نظرانداز کرتی ہیں جو کہ بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے تاریخی وژن پر مبنی ہے۔
مسئلہ فلسطین پر دوٹوک مؤقف
پاکستان نے اعلیٰ ترین سفارتی سطح پر بارہا یہ بات واضح کی ہے کہ فلسطین کے حوالے سے اس کا مؤقف غیر تبدیل شدہ ہے۔ پاکستان صرف اور صرف ایسے حل کو قبول کرے گا جو خود فلسطینی عوام کے لیے قابلِ قبول ہو، جس کی بنیاد 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت “القدس الشریف” ہو۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر خودمختار قومی مفادات اور اصولی سفارت کاری کے تحت تشکیل پاتی ہے، اسے کسی بھی بیرونی دباؤ، سیاسی مہمات یا غیر ملکی اشاروں کے تحت تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
امن کوششوں کو نقصان پہنچانا
ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق، ایران سے متعلق سفارتی کامیابیوں اور کشیدگی میں کمی کو زبردستی نارملائزیشن ایجنڈے کے ساتھ جوڑنا خطے میں حقیقی امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اور حساسیت میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔
یہ بیانیے بظاہر خطے میں امن و امان قائم کرنے سے زیادہ ان ریاستوں کے خلاف ایک سفارتی دباؤ پیدا کرنے کی کوشش معلوم ہوتے ہیں جو عالمی منظر نامے پر اپنا ایک آزاد اور خودمختار مؤقف رکھتی ہیں۔ پاکستان نے واضح پیغام دیا ہے کہ پائیدار علاقائی استحکام کے لیے جبر پر مبنی سیاسی شرائط کے بجائے سچے مکالمے، باہمی احترام اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنانا ضروری ہے۔