امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع امن معاہدے اور جنگ بندی کی امیدوں نے عالمی معاشی مارکیٹ پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں۔ کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی کا زبردست رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ یہ معاشی استحکام ان سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے جن کے تحت خطے میں جنگ کے بادل چھٹنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
ٹرمپ اور خام تیل
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ تہران کے ساتھ معاہدہ ‘بڑی حد تک طے ہو چکا ہے’ اور اس کی تفصیلی شقوں کا اعلان جلد ہی کر دیا جائے گا، تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو یہ ہدایت بھی کی کہ معاہدے تک پہنچنے میں زیادہ جلدی نہ کی جائے۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان اور مثبت سفارتی اشاروں کے بعد پیر کی صبح ایشیائی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 5 فیصد کی بڑی کمی کے ساتھ 98 ڈالر اور 36 سینٹ پر آ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی 3.5 فیصد گرنے کے بعد 91 ڈالر اور 50 سینٹ کی سطح پر ریکارڈ کی گئی۔
ایشیائی مارکیٹ اور جاپانی انڈیکس
تیل کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ہی عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، جس کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ جاپان کا معتبر ‘نکئی 225 انڈیکس’ 2.5 فیصد کے نمایاں اضافے کے ساتھ ملکی تاریخ میں پہلی بار 65 ہزار پوائنٹس کی تاریخی سطح سے تجاوز کر گیا ہے۔
معاشی ماہرین اسٹاک مارکیٹ میں اس غیر معمولی سرمائے کے بہاؤ اور تیزی کو آبنائے ہرمز کے جلد بحری آمدورفت کے لیے کھلنے کی توقعات سے منسوب کر رہے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز کھلنے سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل بلا تعطل جاری رہ سکے گی۔
معیشت اور تعطیلات
مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیر کے روز برطانیہ اور امریکہ میں سرکاری تعطیل ہونے کی وجہ سے وہاں کی توانائی اور مالیاتی مارکیٹیں بند ہیں، جس کے باعث اصل تجارتی سرگرمیاں اور ردعمل ایشیائی مارکیٹ میں ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اگلے چند گھنٹوں میں امریکہ اور ایران کے مابین معاہدے کی باضابطہ اور آفیشل تصدیق ہو جاتی ہے، تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مزید استحکام ائے گا اور مہنگائی کے عالمی دباؤ میں واضح کمی دیکھنے کو ملے گی۔
دیکھیے: امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ آج متوقع؛ امریکی وزیرِ خارجہ کا اہم اعلان