ٹانک: خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں امن دشمنوں نے ایک بار پھر عوامی فلاح اور ترقی کے منصوبوں کو نشانہ بناتے ہوئے تعلیم اور صحت کے دو بنیادی اداروں کو بارودی مواد سے اڑا دیا ہے۔ مقامی پولیس اور انتظامی ذرائع کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ شب ٹانک کے مضافاتی گاؤں ‘چیسن کچ’ میں پیش آیا، جہاں نامعلوم تخریب کاروں نے سوچی سمجھی سازش کے تحت دو اہم سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا۔
بارودی مواد اور تباہی
موصولہ اطلاعات کے مطابق، نامعلوم افراد نے گاؤں چیسن کچ میں واقع بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) اور گورنمنٹ مڈل سکول (بوائز) کی عمارتوں میں بارودی مواد نصب کیا اور اسے زوردار دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکے اتنے شدید تھے کہ ان کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس کے نتیجے میں دونوں سرکاری عمارتوں کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا اور وہ ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
جانی نقصان سے محفوظ
علاقائی اور مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ چونکہ یہ دھماکے رات کے وقت کیے گئے جب عمارتیں خالی تھیں، اس لیے خوش قسمتی سے واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔
شدید غم و غصہ
ٹانک کے مقامی عمائدین اور شہریوں نے صحت اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کی اس کارروائی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں کے سکولوں اور مریضوں کے علاج کے مراکز کو تباہ کرنا علاقے کو پسماندگی کی دلدل میں دھکیلنے کی گھناؤنی سازش ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ سیکیورٹی اداروں نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دیکھیے: کوئٹہ ٹرین حملہ؛ لاپتہ قرار دیا جانے والا بلال شاہوانی خودکش بمبار نکلا