"> یروشلم میں صومالی لینڈ کا نام نہاد سفارت خانہ؛مسلم ممالک کا شدید احتجاج
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

یروشلم میں صومالی لینڈ کا نام نہاد سفارت خانہ؛ پاکستان اور مسلم دنیا کا شدید احتجاج

پاکستان سمیت مسلم اکثریتی ممالک نے مقبوضہ یروشلم میں صومالی لینڈ کی جانب سے نام نہاد سفارت خانہ کھولنے کے منصوبے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔
پاکستان سمیت مسلم اکثریتی ممالک نے مقبوضہ یروشلم میں صومالی لینڈ کی جانب سے نام نہاد سفارت خانہ کھولنے کے منصوبے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔

وزارتِ خارجہ پاکستان اور مسلم ممالک کا مشترکہ بیان۔ صومالی لینڈ کے یروشلم اقدام کی شدید مذمت۔ صومالیہ کی علاقائی سالمیت اور القدس الشریف کے تاریخی و قانونی تحفظ کا عزم۔

May 25, 2026

اسلام آباد: پاکستان سمیت مسلم دنیا نے القدس میں صومالی لینڈ کی جانب سے نام نہاد سفارت خانہ کھولنے کے منصوبے کو غیر قانونی سیاسی انجینئرنگ قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم مشترکہ وزارتی بیان کے مطابق مسلم اکثریتی ممالک نے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اس کے ساتھ ہی رابطہ عالمِ اسلامی نے بھی صومالی لینڈ کے اس منصوبے کو بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ القدس کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

سفارتی ذرائع اور بیانیاتی نکات کے مطابق، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک نے واضح کیا ہے کہ صومالی لینڈ کا یروشلم اقدام دراصل مقبوضہ علاقے کے غیر قانونی استعمال کے ذریعے اپنے لیے سیاسی جواز پیدا کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ یہ اقدام مبینہ طور پر ایک ایسے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ محسوس ہوتا ہے جس کا مقصد اسرائیل کے قبضے کی موجودہ حقیقتوں سے جڑے علامتی اقدامات کے ذریعے عالمی سطح پر سیاسی تسلیم شدگی حاصل کرنا ہے۔

مسلم ریاستوں نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ وہ القدس کو نارملائزیشن کی سیاست کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی، کیونکہ مشرقی یروشلم ایک مقبوضہ فلسطینی علاقہ ہے اور کوئی بھی یکطرفہ اقدام اس کی قانونی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

علاقائی سالمیت کی حمایت

اس اہم موڑ پر پاکستان نے وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ایسے یکطرفہ اقدام کو قبول نہیں کیا جا سکتا جو صومالی سرزمین کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ وحدت یا سالمیت کو کسی بھی طرح نقصان پہنچائے۔

پاکستان نے واضح کیا کہ وہ ہر اس یکطرفہ کوشش کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے جو مقبوضہ یروشلم میں غیر قانونی حقیقت کو مضبوط کرے یا کسی ایسے ڈھانچے کو جواز فراہم کرے جو بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے منافی ہو۔

مسئلہ فلسطین پر مؤقف

خارجہ دفتر کے مطابق، پاکستان کا مؤقف ہمیشہ کی طرح بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کی بھرپور حمایت پر مبنی ہے، جس کی بنیاد 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

مسلم دنیا نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں اس عزم کو دہرایا ہے کہ پائیدار علاقائی استحکام کسی بھی قسم کے جبر، دباؤ یا مصنوعی سفارتی بندوبست سے حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ صرف اور صرف قانونی، جائز اور منصفانہ سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *