اسلام آباد: پاکستان سمیت مسلم دنیا نے القدس میں صومالی لینڈ کی جانب سے نام نہاد سفارت خانہ کھولنے کے منصوبے کو غیر قانونی سیاسی انجینئرنگ قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم مشترکہ وزارتی بیان کے مطابق مسلم اکثریتی ممالک نے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اس کے ساتھ ہی رابطہ عالمِ اسلامی نے بھی صومالی لینڈ کے اس منصوبے کو بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ القدس کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
سفارتی ذرائع اور بیانیاتی نکات کے مطابق، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک نے واضح کیا ہے کہ صومالی لینڈ کا یروشلم اقدام دراصل مقبوضہ علاقے کے غیر قانونی استعمال کے ذریعے اپنے لیے سیاسی جواز پیدا کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ یہ اقدام مبینہ طور پر ایک ایسے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ محسوس ہوتا ہے جس کا مقصد اسرائیل کے قبضے کی موجودہ حقیقتوں سے جڑے علامتی اقدامات کے ذریعے عالمی سطح پر سیاسی تسلیم شدگی حاصل کرنا ہے۔
🔊PR No.1️⃣2️⃣6️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) May 24, 2026
Joint Ministerial Statement Condemning the Opening of a Purported “Somaliland” Embassy in Occupied Jerusalem
🔗⬇️ pic.twitter.com/XSXDeA7oZ1
مسلم ریاستوں نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ وہ القدس کو نارملائزیشن کی سیاست کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی، کیونکہ مشرقی یروشلم ایک مقبوضہ فلسطینی علاقہ ہے اور کوئی بھی یکطرفہ اقدام اس کی قانونی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔
علاقائی سالمیت کی حمایت
اس اہم موڑ پر پاکستان نے وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ایسے یکطرفہ اقدام کو قبول نہیں کیا جا سکتا جو صومالی سرزمین کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ وحدت یا سالمیت کو کسی بھی طرح نقصان پہنچائے۔
پاکستان نے واضح کیا کہ وہ ہر اس یکطرفہ کوشش کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے جو مقبوضہ یروشلم میں غیر قانونی حقیقت کو مضبوط کرے یا کسی ایسے ڈھانچے کو جواز فراہم کرے جو بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے منافی ہو۔
مسئلہ فلسطین پر مؤقف
خارجہ دفتر کے مطابق، پاکستان کا مؤقف ہمیشہ کی طرح بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کی بھرپور حمایت پر مبنی ہے، جس کی بنیاد 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
مسلم دنیا نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں اس عزم کو دہرایا ہے کہ پائیدار علاقائی استحکام کسی بھی قسم کے جبر، دباؤ یا مصنوعی سفارتی بندوبست سے حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ صرف اور صرف قانونی، جائز اور منصفانہ سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔