اسرائیل نواز سخت گیر لابنگ سے وابستہ بااثر امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی جانب سے پاکستان کو ایک ایسے جغرافیائی و سیاسی بیانیے میں گھسیٹنے کی نئی کوشش سامنے آئی ہے، جس سے پاکستان کا نہ تو کوئی براہِ راست تعلق ہے اور نہ ہی وہ اس کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ سفارتی ذرائع اور اسٹریٹجک تجزیوں کے مطابق سینیٹر لنڈسے گراہم کے حالیہ بیانات اور مہم سے واضح ہوتا ہے کہ ایران سے متعلق علاقائی کشیدگی میں کمی کے عمل کو ابراہیم معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ وسیع تر نارملائزیشن ایجنڈے سے جوڑنے کی زبردستی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس طرزِ عمل کو اسرائیل نواز حلقوں کی ایک آخری سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ امن عمل کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی شرط سے مشروط کیا جا سکے۔
پاکستان کا اصولی مؤقف
نارملائزیشن کے اس مخصوص بیانیے کے ذریعے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالنے کی یہ کوششیں مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے مستقل، واضح اور غیر لچکدار اصولی مؤقف کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہیں۔ پاکستان کی ریاست کا یہ تاریخی مؤقف بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے روشن وژن پر قائم ہے، جس میں کسی بھی مصلحت پسندی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
پاکستان متعدد بار بین الاقوامی فورمز پر یہ واضح کر چکا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا واحد، مستقل اور قابلِ قبول حل صرف اور صرف ایک ایسی آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر جڑی ہوئی فلسطینی ریاست کا قیام ہے جو 1947 سے پہلے کی سرحدوں پر استوار ہو اور جس کا دارالحکومت ‘القدس الشریف’ ہو۔ پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ صرف اور صرف اسی حل کو تسلیم کرے گا جو خود فلسطینی عوام کے لیے مکمل طور پر قابلِ قبول ہو۔
خودمختار خارجہ پالیسی
دستیاب بیانیاتی نکات کے مطابق، پاکستان کی خارجہ پالیسی کسی بھی بیرونی دباؤ، سیاسی اشاروں، مصنوعی سفارتی مہمات یا عارضی مفادات کے تحت تشکیل نہیں پاتی، بلکہ اس کی بنیاد مکمل قومی خودمختاری، اصولی سفارت کاری اور مٹی کے حقیقی قومی مفادات پر استوار ہے۔ ایران سے متعلق خطے کی حساس کشیدگی کو زبردستی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی یا نارملائزیشن ایجنڈے سے جوڑنا سفارتی طور پر انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ اس قسم کی غیر منطقی شرائط حقیقی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر سکتی ہیں اور خطے میں موجود سیکیورٹی کی حساسیت اور تناؤ کو مزید بڑھانے کا سبب بنیں گی۔
علاقائی استحکام کے اصول
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی سینیٹرز کی جانب سے سامنے آنے والے ایسے بیانیے خطے میں امن کے حقیقی فروغ سے زیادہ ان ممالک پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش دکھائی دیتے ہیں جو عالمی امور پر ایک آزاد، خودمختار اور اصولی مؤقف برقرار رکھتے ہیں۔
پاکستان کا یہ پختہ مؤقف ہے کہ پائیدار علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن صرف اور صرف کھلے مکالمے، باہمی احترام، اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سمیت بین الاقوامی قانونی اصولوں کی پاسداری سے ہی ممکن ہے، اسے سیاسی جبر یا دباؤ پر مبنی یکطرفہ سفارتی شرائط کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔