افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے جواب میں ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی دھمکی دے دی۔

September 1, 2026

سید علی شاہ گیلانی کی پانچویں برسی پر ان کی طویل سیاسی جدوجہد، نظریاتی ثابت قدمی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے کردار کو یاد کیا جا رہا ہے۔

September 1, 2026

لنڈسے گراہم کا اسرائیل نواز دباؤ مسترد؛ فلسطین پر پاکستان اپنے اصولی مؤقف پر قائم

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی جانب سے ایران کشیدگی کو اسرائیل نارملائزیشن سے جوڑنے کی کوششوں کے جواب میں پاکستان نے بیرونی دباؤ مسترد کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی جانب سے ایران کشیدگی کو اسرائیل نارملائزیشن سے جوڑنے کی کوششوں کے جواب میں پاکستان نے بیرونی دباؤ مسترد کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی اسرائیل نواز نارملائزیشن مہم اور ابراہم معاہدوں کے تناظر میں پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ۔ فلسطین، القدس الشریف اور قومی خودمختاری پر پاکستان نے بیرونی دباؤ مسترد کر دیا۔

May 26, 2026

اسرائیل نواز سخت گیر لابنگ سے وابستہ بااثر امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی جانب سے پاکستان کو ایک ایسے جغرافیائی و سیاسی بیانیے میں گھسیٹنے کی نئی کوشش سامنے آئی ہے، جس سے پاکستان کا نہ تو کوئی براہِ راست تعلق ہے اور نہ ہی وہ اس کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ سفارتی ذرائع اور اسٹریٹجک تجزیوں کے مطابق سینیٹر لنڈسے گراہم کے حالیہ بیانات اور مہم سے واضح ہوتا ہے کہ ایران سے متعلق علاقائی کشیدگی میں کمی کے عمل کو ابراہیم معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ وسیع تر نارملائزیشن ایجنڈے سے جوڑنے کی زبردستی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس طرزِ عمل کو اسرائیل نواز حلقوں کی ایک آخری سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ امن عمل کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی شرط سے مشروط کیا جا سکے۔

پاکستان کا اصولی مؤقف

نارملائزیشن کے اس مخصوص بیانیے کے ذریعے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالنے کی یہ کوششیں مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے مستقل، واضح اور غیر لچکدار اصولی مؤقف کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہیں۔ پاکستان کی ریاست کا یہ تاریخی مؤقف بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے روشن وژن پر قائم ہے، جس میں کسی بھی مصلحت پسندی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

پاکستان متعدد بار بین الاقوامی فورمز پر یہ واضح کر چکا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا واحد، مستقل اور قابلِ قبول حل صرف اور صرف ایک ایسی آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر جڑی ہوئی فلسطینی ریاست کا قیام ہے جو 1947 سے پہلے کی سرحدوں پر استوار ہو اور جس کا دارالحکومت ‘القدس الشریف’ ہو۔ پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ صرف اور صرف اسی حل کو تسلیم کرے گا جو خود فلسطینی عوام کے لیے مکمل طور پر قابلِ قبول ہو۔

خودمختار خارجہ پالیسی

دستیاب بیانیاتی نکات کے مطابق، پاکستان کی خارجہ پالیسی کسی بھی بیرونی دباؤ، سیاسی اشاروں، مصنوعی سفارتی مہمات یا عارضی مفادات کے تحت تشکیل نہیں پاتی، بلکہ اس کی بنیاد مکمل قومی خودمختاری، اصولی سفارت کاری اور مٹی کے حقیقی قومی مفادات پر استوار ہے۔ ایران سے متعلق خطے کی حساس کشیدگی کو زبردستی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی یا نارملائزیشن ایجنڈے سے جوڑنا سفارتی طور پر انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ اس قسم کی غیر منطقی شرائط حقیقی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر سکتی ہیں اور خطے میں موجود سیکیورٹی کی حساسیت اور تناؤ کو مزید بڑھانے کا سبب بنیں گی۔

علاقائی استحکام کے اصول

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی سینیٹرز کی جانب سے سامنے آنے والے ایسے بیانیے خطے میں امن کے حقیقی فروغ سے زیادہ ان ممالک پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش دکھائی دیتے ہیں جو عالمی امور پر ایک آزاد، خودمختار اور اصولی مؤقف برقرار رکھتے ہیں۔

پاکستان کا یہ پختہ مؤقف ہے کہ پائیدار علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن صرف اور صرف کھلے مکالمے، باہمی احترام، اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سمیت بین الاقوامی قانونی اصولوں کی پاسداری سے ہی ممکن ہے، اسے سیاسی جبر یا دباؤ پر مبنی یکطرفہ سفارتی شرائط کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ مضامین

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *