اسلام آباد: پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے ابراہیم معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد کا ایسے کسی بھی اتحاد، مہم یا سفارتی معاہدے کا حصہ بننے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری ہونے والے اس اہم ترین اور باضابطہ بیان نے ان تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دیا ہے جو گزشتہ چند دنوں سے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر پھیلائی جا رہی تھیں۔
اسرائیلی لابیوں کو جواب
وزیرِ دفاع نے مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے تاریخی، آئینی اور روایتی اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے واشنگٹن اور دیگر بین الاقوامی اسرائیل نواز لابیوں کے بڑھتے ہوئے سفارتی دباؤ کے تناظر میں انتہائی سخت اور واضح الفاظ اختیار کیے۔
انہوں نے واشگاف انداز میں کہا کہ ہمارا مؤقف بالکل صاف اور واضح ہے کہ یہ (اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا) ہمیں کسی بھی صورت میں اور کسی بھی قیمت پر قابلِ قبول نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ریاستی سطح پر اپنے دیرینہ اصولی اصولوں کا سودا نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی عارضی جغرافیائی و سیاسی مصلحت کا حصہ بنے گا۔
بھارتی میڈیا کو جواب
اپنے خصوصی انٹرویو اور بیان میں خواجہ آصف نے بھارتی میڈیا اور پروپیگنڈا نیٹ ورکس کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جو مسلسل یہ گمراہ کن دعوے کر رہے تھے کہ پاکستان خلیجی خطے کی نئی صورتحال اور ابراہم معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ پسِ پردہ لچک دکھا رہا ہے۔
وزیرِ دفاع نے بھارتی ذرائع ابلاغ کی اس بیانیاتی ہیرا پھیری کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اسلام آباد کو کسی بھی سطح پر ابراہیم معاہدوں میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے چاہییں، جیسا کہ بھارتی میڈیا بے بنیاد دعوے کر کے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بانیِ پاکستان اور خارجہ پالیسی
سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیرِ دفاع کا یہ بیان پاکستان کی اس خودمختار خارجہ پالیسی کا عکاس ہے جو بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے وژن پر استوار ہے۔ پاکستان کا مستقل موقف رہا ہے کہ جب تک فلسطینی عوام کو ان کا جائز حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا اور 1947 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، تب تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
خواجہ آصف کے اس دوٹوک اور غیر مبہم موقف نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور اصولی سفارت کاری پر کاربند رہتے ہوئے خطے میں پائیدار اور منصفانہ امن کا حامی ہے، نہ کہ دباؤ پر مبنی کسی مصنوعی امن ایجنڈے کا۔