پاکستان اور چین کے مابین اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بیجنگ سے ایک انتہائی اہم اور جامع مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ یہ اعلامیہ وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے دورہ چین کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان قائم سفارتی تعلقات کی پچھتر ویں سالگرہ کے تاریخی پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
بیجنگ آمد پر وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے وفد کا انتہائی گرمجوشی سے خیرمقدم کیا گیا، جس پر پاکستانی قیادت نے چینی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ دورے کے دوران دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے متعدد اہم دستاویزات اور معاہدوں پر دستخط کیے۔
عالمی فورمز اور چینی حمایت
مشترکہ اعلامیے کے مطابق چین نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اگلے گردشی صدر کے طور پر پاکستان کی بھرپور حمایت کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بیجنگ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر پاکستان کی مدت برائے سال دو ہزار پچیس تا دو ہزار چھبیس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کثیر الجہتی تناظر میں باہمی ہم آہنگی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
چینی قیادت نے جولائی دو ہزار پچیس میں پاکستان کی زیر صدارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت کثیر الجہتی کو فروغ دینے، تنازعات کے پرامن حل اور علاقائی تعاون کے لیے اٹھائے گئے مختلف پاکستانی اقدامات کی کماحقہ تعریف کی۔
🔊PR No.1️⃣2️⃣9️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) May 26, 2026
Joint Statement between the People’s Republic of China and the Islamic Republic of Pakistan (May 26,2026)
2/2
🔗⬇️ pic.twitter.com/ALd8vE5B3O
چینی شہریوں کی سکیورٹی
مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی کے خلاف غیر سمجھوتہ آمیز رویہ اپناتے ہوئے واضح کیا گیا کہ پاکستان میں کام کرنے والے تمام چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد ہدف پر مبنی اور فول پروف حفاظتی اقدامات اٹھائے گا۔
چین نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مسلسل اور پختہ جنگ کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ دونوں ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسداد دہشت گردی میں تعاون کو فروغ دے اور دہشت گردی کے معاملے پر دوہرے معیار اپنانے یا اس کی سیاسی رنگ سازی کی سخت مخالفت کرے۔
پاک افغان تعلقات اور خطرات
اعلامیے میں افغانستان کی صورتحال اور اپریل دو ہزار چھبیس میں ارومچی میں چین، افغانستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے کامیاب غیر رسمی مذاکرات کا مثبت ذکر کیا گیا، جہاں پاکستان نے پاک افغان رابطوں کے لیے چین کے فراہم کردہ ڈائیلاگ پلیٹ فارم کا خیرمقدم کیا۔
دونوں اطراف نے اس بات پر سختی سے زور دیا کہ تحریک طالبان پاکستان اور ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ سمیت کسی بھی فرد, گروہ یا جماعت کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ کسی بھی ملک کی سرزمین کو علاقائی سیکیورٹی اور مفادات کو نقصان پہنچانے یا دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرے۔
کشمیر پر بیجنگ کا مؤقف
پاکستانی وفد نے چینی قیادت کو جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔ چینی سائیڈ نے اپنے دیرینہ اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ مسئلہ جموں و کشمیر تاریخ کا ایک حل طلب تنازع ہے، جسے اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق مناسب اور پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔
دونوں ممالک نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام برقرار رکھنے اور تمام بقایا تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کسی بھی یکطرفہ کارروائی کی مخالفت کی۔ اس کے ساتھ ہی، دونوں ممالک نے مساوات اور باہمی فائدے کے اصول کے تحت سرحد پار آبی وسائل کے شعبے میں تعاون کے لیے آمادگی کا اظہار کیا۔
مشرق وسطیٰ امن اور جدید تکنیکی شعبوں میں تعاون
عالمی سفارت کاری کے میدان میں، پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے تحفظ اور فروغ کے لیے چینی صدر شی جن پنگ کی چار تجاویز کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ چین نے امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کی سہولت کاری اور اس سلسلے میں اسلام آباد مذاکرات کے انعقاد کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔
دونوں ممالک نے خلیج اور مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن کی جلد بحالی کے لیے پانچ نکاتی اقدام پر جلد عملدرآمد کا عزم ظاہر کیا۔ اس کے علاوہ، پاکستان نے عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کے قیام کے لیے چین کے اقدام کی حمایت کی، اور دونوں ممالک نے مصنوعی ذہانت کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرنے اور عالمی گورننس کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
دیکھیے: مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کا تعمیری کردار قابلِ ستائش ہے: چینی صدر