خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں فتنہ الخوارج اور نور ولی محسود کے خلاف وال چاکنگ سامنے آئی ہے، جہاں عوام نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور علما کے قتل کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کیا ہے۔

May 26, 2026

ننگرہار ایئرپورٹ پر طالبان اور مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، قومی محاذ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے طالبان کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

May 26, 2026

افغانستان میں داعش خراسان اور دیگر گروہوں کے پھیلاؤ پر روسی انٹیلی جنس نے یوریشیا سکیورٹی کے لیے سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں۔

May 26, 2026

پاکستان اور چین نے سفارتی تعلقات کی پچھتر ویں سالگرہ پر بیجنگ سے جامع مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی اور مسئلہ کشمیر پر روایتی اصولی عزم کا اعادہ کیا ہے۔

May 26, 2026

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ابراہیم معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے بھارتی دعوے مسترد کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔

May 26, 2026

عالمی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی ساکھ کے بعد بھارتی پروپیگنڈا نیٹ ورکس کی جانب سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ملکی خارجہ پالیسی کے خلاف مصنوعی و من گھڑت مواد پر مبنی مہم کا پردہ چاک کر دیا گیا ہے۔

May 26, 2026

افغانستان عالمی دہشت گردی کا مرکز؛ روسی خفیہ ادارے کا یوریشیا سکیورٹی پر سنگین انتباہ

افغانستان میں داعش خراسان اور دیگر گروہوں کے پھیلاؤ پر روسی انٹیلی جنس نے یوریشیا سکیورٹی کے لیے سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں۔
افغانستان میں داعش خراسان اور دیگر گروہوں کے پھیلاؤ پر روسی انٹیلی جنس نے یوریشیا سکیورٹی کے لیے سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں۔

افغانستان میں داعش خراسان اور دیگر گروہوں کے پھیلاؤ پر روسی انٹیلی جنس نے یوریشیا سکیورٹی کے لیے سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں۔

May 26, 2026

روسی خفیہ ادارے ایف ایس بی کے سربراہ الیگزینڈر بورٹنیکوف نے خطے کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں داعش خراسان تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان، قازقستان اور روس میں مقیم مہاجر کمیونٹیز سے بڑے پیمانے پر دہشت گردوں کی بھرتی میں مصروف ہے۔ روسی انٹیلی جنس کے مطابق ان دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے مالی معاونت کے ذرائع اور حملوں کی منصوبہ بندی کے ڈھانچے اب صرف افغانستان تک محدود نہیں رہے بلکہ خطے بھر میں مسلسل پھیل رہے ہیں، جس نے پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

انتہا پسندی کا مرکز

بورٹنیکوف کی یہ تنبیہ اس بڑھتی ہوئی حقیقت کو مزید تقویت دیتی ہے کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اب صرف ایک اندرونی تنازع زدہ خطہ نہیں رہا، بلکہ یہ دہشت گرد بھرتیوں، انتہا پسندانہ نظریاتی سرگرمیوں اور سرحد پار کاروائیوں کے ابھرتے ہوئے اسٹریٹجک مرکز میں تبدیل ہو رہا ہے۔ داعش خراسان کی جانب سے وسطی ایشیا سے لے کر روس میں موجود مہاجر برادریوں تک اپنے نیٹ ورک کا پھیلاؤ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغانستان بتدریج شدت پسند تنظیموں کی متحرک سازی اور افرادی قوت کی فراہمی کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔

آزاد ریاستوں کی دولتِ مشترکہ کے ممالک میں دہشت گرد سیلز اور خفیہ مالیاتی نیٹ ورکس کا پھیلاؤ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ طالبان کے زیرِ کنٹرول ماحول میں افغانستان سے چلنے والا جہادی ماحولیاتی نظام مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے۔

دہشت گردی کی منتقلی

سکیورٹی ذرائع کے مطابق روس، تاجکستان اور ازبکستان کے درمیان متعدد حملوں کو ناکام بنانے کے لیے حالیہ دنوں میں ہونے والا قریبی سکیورٹی تعاون اس خطرے کی سنگینی کو ثابت کرتا ہے۔ ان ناکام بنائے گئے حملوں میں دارالحکومت ماسکو کو نشانہ بنانے کی انتہائی منظم اور خطرناک کارروائیاں بھی شامل تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ افغانستان میں پروان چڑھنے والے خطرات اب محض بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ عملی دہشت گردی کی صورت میں یوریشیا تک منتقل ہو رہے ہیں، جو خطے کے تمام ممالک کے لیے یکساں تشویش کا باعث ہے۔

رپورٹس اور جنگجوؤں کی تعداد

یہ انتباہات اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم، صدارتی انسپکٹر جنرل برائے بحالی افغانستان، روسی اور دیگر علاقائی رپورٹس کے ان مسلسل خدشات سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں جن کے مطابق افغانستان اس وقت بیس سے زائد دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ ان تنظیموں کے پاس بیس سے تئیس ہزار کے لگ بھگ تربیت یافتہ جنگجو موجود ہیں، جن میں داعش خراسان، تحریکِ طالبان پاکستان، القاعدہ، اور ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ جیسے خطرناک نیٹ ورکس شامل ہیں۔

خطے کے لیے مستقل خطرہ

مصدقہ اسٹریٹجک تخمینوں کے مطابق، اس وقت افغانستان کی سر زمین پر دو سے تین ہزار داعش خراسان اور پانچ سے سات ہزار ٹی ٹی پی کے دہشت گرد موجود ہیں۔ انتہا پسند بھرتیوں کے ان مسلسل نیٹ ورکس نے افغانستان کو دہشت گردی کی بحالی، آپسی ہم آہنگی اور نظریاتی توسیع کے ایک خطرناک مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ اب یہ خطرہ افغانستان کی سرحدوں تک محدود نہیں رہا بلکہ طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقے بتدریج انتہا پسندی کی برآمد، جہادی تنظیموں کی بھرتی گاہ اور سرحد پار کارروائیوں کے عالمی لانچ پیڈ میں تبدیل ہو رہے ہیں، جس کا اگر فوری تدارک نہ کیا گیا تو یہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔

متعلقہ مضامین

خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں فتنہ الخوارج اور نور ولی محسود کے خلاف وال چاکنگ سامنے آئی ہے، جہاں عوام نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور علما کے قتل کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کیا ہے۔

May 26, 2026

ننگرہار ایئرپورٹ پر طالبان اور مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، قومی محاذ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے طالبان کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

May 26, 2026

پاکستان اور چین نے سفارتی تعلقات کی پچھتر ویں سالگرہ پر بیجنگ سے جامع مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی اور مسئلہ کشمیر پر روایتی اصولی عزم کا اعادہ کیا ہے۔

May 26, 2026

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ابراہیم معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے بھارتی دعوے مسترد کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔

May 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *