"> ننگرہار ایئرپورٹ پر مسلح حملہ؛ طالبان کو شدید جانی و مالی نقصان کا دعویٰ
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ننگرہار ایئرپورٹ پر طالبان اور مسلح گروہ میں تصادم؛ جانی و مالی نقصان کی اطلاعات

ننگرہار ایئرپورٹ پر طالبان اور مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، قومی محاذ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے طالبان کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔
افغانستان کے صوبے ننگرہار کے ایئرپورٹ پر طالبان اور مسلح مخالفین کے مابین شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، جس کی ذمہ داری قومی محاذ برائے آزادی افغانستان نے قبول کرتے ہوئے طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ننگرہار ایئرپورٹ پر مسلح جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، جہاں قومی محاذ برائے آزادی افغانستان نے طالبان کے ٹھکانوں پر حملے اور بھاری نقصان کا دعویٰ کیا ہے۔

May 26, 2026

افغانستان کے صوبے ننگرہار کے ایئرپورٹ پر مسلح تصادم اور شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ قومی محاذ برائے آزادی افغانستان نامی مسلح مزاحمتی گروہ نے ایک باضابطہ اور ہنگامی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ننگرہار ایئرپورٹ پر ہونے والے ان مسلح حملوں کی تمام تر ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس گروہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان کے جنگجوؤں نے ایئرپورٹ کے اندر اور اطراف میں قائم طالبان کے اسٹریٹجک ٹھکانوں، اڈوں اور سکیورٹی مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے باقاعدہ فوجی کاروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔

دفاعی لائنیں عبور کرنا

محاذ کے میڈیا دفتر کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کاروائی آج بروز منگل کو عمل میں لائی گئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کاروائی کے دوران مسلح گروہ نے جدید فوجی حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے طالبان کے کنٹرول پوائنٹس پر اچانک حملے کیے۔

محاذ کے مطابق ان کے جنگجو طالبان کی مضبوط دفاعی لائنوں کے بعض حصوں کو کامیابی سے عبور کرنے میں کامیاب رہے اور اس دوران طالبان کے کمانڈ مراکز کو بھی مسلسل فائرنگ کی زد میں رکھا گیا۔

طالبان کا جانی و مالی نقصان

قومی محاذ برائے آزادی افغانستان کا کہنا ہے کہ اس شدید حملے اور آمنے سامنے ہونے والی جھڑپ کے نتیجے میں طالبان کے اہلکاروں اور ان کے عسکری ساز و سامان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی اس کارروائی کے باعث ننگرہار ایئرپورٹ کے فوجی اڈے پر طالبان کی آپریشنل سرگرمیاں اور نقل و حرکت شدید طور پر متاثر ہوئی ہیں۔

مزید وضاحت کی گئی ہے کہ یہ مسلح کارروائی ان کی اسٹریٹجک مہم کا حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد ملک کی موجودہ صورتحال میں تبدیلی لانا، طالبان کے خلاف وسیع تر مزاحمتی حکمت عملی کو آگے بڑھانا اور قومی خودمختاری کی بحالی کے منصوبے کو پائے تکمیل تک پہنچانا ہے۔

طالبان کی خاموشی

دوسری جانب ننگرہار ایئرپورٹ جیسے انتہائی حساس مقام پر ہونے والی اس فوجی کارروائی اور جھڑپوں کے حوالے سے طالبان کی عبوری حکومت کی وزارتِ دفاع یا مقامی حکام کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل یا مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔

آزاد عالمی ذرائع اور بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورکس نے واضح کیا ہے کہ وہ ننگرہار سے موصول ہونے والے ان سکیورٹی دعوؤں، جانی و مالی نقصان کے اعداد و شمار اور ایئرپورٹ پر کنٹرول سے متعلق حقائق کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکتے، کیونکہ خطے میں آزاد میڈیا کی رسائی انتہائی محدود ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *