افغانستان کے صوبے ننگرہار کے ایئرپورٹ پر مسلح تصادم اور شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ قومی محاذ برائے آزادی افغانستان نامی مسلح مزاحمتی گروہ نے ایک باضابطہ اور ہنگامی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ننگرہار ایئرپورٹ پر ہونے والے ان مسلح حملوں کی تمام تر ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس گروہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان کے جنگجوؤں نے ایئرپورٹ کے اندر اور اطراف میں قائم طالبان کے اسٹریٹجک ٹھکانوں، اڈوں اور سکیورٹی مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے باقاعدہ فوجی کاروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔
دفاعی لائنیں عبور کرنا
محاذ کے میڈیا دفتر کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کاروائی آج بروز منگل کو عمل میں لائی گئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کاروائی کے دوران مسلح گروہ نے جدید فوجی حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے طالبان کے کنٹرول پوائنٹس پر اچانک حملے کیے۔
محاذ کے مطابق ان کے جنگجو طالبان کی مضبوط دفاعی لائنوں کے بعض حصوں کو کامیابی سے عبور کرنے میں کامیاب رہے اور اس دوران طالبان کے کمانڈ مراکز کو بھی مسلسل فائرنگ کی زد میں رکھا گیا۔
جبهه ملی استقلال افغانستان از آغاز عملیات نظامی علیه تالبان در ننگرهار خبر داد
— ExTV (@ExileTVNetwork) May 26, 2026
جبهه ملی استقلال افغانستان اعلام کرده است که نیروهای این گروه عملیاتی را علیه مواضع تالبان در فرودگاه ننگرهار آغاز کردهاند.
در اعلامیهای که از سوی دفتر رسانهای این جبهه منتشر شده، آمده است که این… pic.twitter.com/nr0YlIwsGV
طالبان کا جانی و مالی نقصان
قومی محاذ برائے آزادی افغانستان کا کہنا ہے کہ اس شدید حملے اور آمنے سامنے ہونے والی جھڑپ کے نتیجے میں طالبان کے اہلکاروں اور ان کے عسکری ساز و سامان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی اس کارروائی کے باعث ننگرہار ایئرپورٹ کے فوجی اڈے پر طالبان کی آپریشنل سرگرمیاں اور نقل و حرکت شدید طور پر متاثر ہوئی ہیں۔
مزید وضاحت کی گئی ہے کہ یہ مسلح کارروائی ان کی اسٹریٹجک مہم کا حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد ملک کی موجودہ صورتحال میں تبدیلی لانا، طالبان کے خلاف وسیع تر مزاحمتی حکمت عملی کو آگے بڑھانا اور قومی خودمختاری کی بحالی کے منصوبے کو پائے تکمیل تک پہنچانا ہے۔
طالبان کی خاموشی
دوسری جانب ننگرہار ایئرپورٹ جیسے انتہائی حساس مقام پر ہونے والی اس فوجی کارروائی اور جھڑپوں کے حوالے سے طالبان کی عبوری حکومت کی وزارتِ دفاع یا مقامی حکام کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل یا مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔
آزاد عالمی ذرائع اور بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورکس نے واضح کیا ہے کہ وہ ننگرہار سے موصول ہونے والے ان سکیورٹی دعوؤں، جانی و مالی نقصان کے اعداد و شمار اور ایئرپورٹ پر کنٹرول سے متعلق حقائق کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکتے، کیونکہ خطے میں آزاد میڈیا کی رسائی انتہائی محدود ہے۔