بین الاقوامی فورمز پر بھارت کی جانب سے مسلسل اور منظم طریقے سے کیے جانے والے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو عالمی سفارتی ماہرین کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں سے لے کر تمام اہم عالمی مذاکروں تک، خود کو عالمی طاقت کہلانے والے ملک بھارت کی خارجہ پالیسی کا پورا محور صرف اور صرف پاکستان کے گرد گھومتا ہوا نظر آتا ہے، جو اس کی سفارتی ناپختگی کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان کا اصولی مؤقف
بین الاقوامی امور کے مبصرین کے مطابق مسئلہ کشمیر، فلسطین کی صورتحال اور سندھ طاس معاہدے جیسے اہم معاملات پر پاکستان کا اصولی، تاریخی اور قانونی مؤقف انتہائی مضبوط رہا ہے۔ پاکستان کے اسی جاندار سفارتی موقف نے بھارت کو مسلسل عالمی سطح پر دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے توڑ کے لیے مودی حکومت کے پاس پرانا مظلومیت کا ڈرامہ استعمال کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں بچا۔
بھارتی پشت پناہی کے شواہد
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھارتی سرپرستی اور مالی معاونت سے چلنے والے بدامنی، دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے نیٹ ورکس کو دستاویزی اور ٹھوس شواہد کے ساتھ عالمی برادری کے سامنے بارہا بے نقاب کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے پیش کیے جانے والے ان ناقابلِ تردید حقائق نے نئی دہلی کے جارحانہ عزائم کو دنیا بھر میں شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
بھارتی حکومت کا دوہرا معیار
عالمی ماہرین نے بھارت کے دوہرے معیار کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار ایک طرف تو پڑوسی ممالک میں انتہا پسند پروکسیز کی کھلم کھلا پشت پناہی کرتی ہے اور دوسری طرف عالمی برادری کے سامنے خود کو دہشت گردی کے واحد مظلوم کے طور پر پیش کرنے کا منافقانہ رویہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ مودی حکومت کا موجودہ سفارتی ماڈل محض یکطرفہ من گھڑت کہانیوں اور مصنوعی غصے پر مبنی ہے، جسے پاکستان حقائق کی طاقت اور مضبوط سفارت کاری کی بنیاد پر دنیا کے سامنے لاتا رہے گا۔