بھارت کے معروف شہر بنگلور میں افریقی ملک یوگنڈا سے سفر کر کے آنے والی ایک خاتون کو ایبولا وائرس کے شدید شبہے میں قرنطینہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد پورے خطے میں حیاتیاتی اور صحت کے سنگین خطرات کے حوالے سے تشویش کی ایک شدید لہر دوڑ گئی ہے۔ اگرچہ طبی حکام کے مطابق مذکورہ خاتون کے ابتدائی ٹیسٹ منفی آئے ہیں، تاہم افریقہ میں جاری شدید ہیلتھ ایمرجنسی کے پیشِ نظر حکام احتیاطی تدابیر کے طور پر ان کی سخت نگرانی کر رہے ہیں اور دوبارہ ٹیسٹنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
بارڈر کنٹرول کی سنگین غفلت
متاثرہ خاتون کی سفری تفصیلات نے بھارتی حکومت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ خاتون ایبولا وائرس سے شدید متاثرہ ملک یوگنڈا سے براہِ راست بھارت کے شہر احمد آباد کے ہوائی اڈے پر لینڈ کر گئیں۔ وہاں سیکیورٹی اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی مجرمانہ لاپرواہی کے باعث ان کی کوئی سخت اسکریننگ نہیں کی گئی، جس کا فائدہ اٹھا کر وہ باآسانی مقامی پروازوں کے ذریعے سفر کرتے ہوئے ملک کے اندرونی حصے یعنی بنگلور تک پہنچ گئیں۔
اداروں پر عوامی غصہ
بنگلور کے قلب میں اس مشتبہ کیس کے رپورٹ ہونے پر بھارتی بارڈر کنٹرول، امیگریشن اور ریگولیٹری اداروں کی ناقص ترین کارکردگی پر شدید عوامی غصہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ عالمی برادری جہاں افریقہ میں جاری پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کے باعث ہائی الرٹ پر ہے، وہیں بھارتی حکام کی اس سستی پر ہر طرف سے تھو تھو ہو رہی ہے۔ عوامی و طبی حلقوں نے اس غفلت کو سرحدوں پر مامور اداروں کی نااہلی قرار دیا ہے جو ایک مہلک ترین وائرس کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے میں ناکام رہے۔
علاقائی تباہی کا خطرہ
سیاسی و سماجی مبصرین نے اس پورے معاملے کو بھارتی حکام کی “مجرمانہ غفلت” سے تعبیر کیا ہے۔ ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی ہیلتھ اور سیکیورٹی پروٹوکولز کو اس طرح نظر انداز کرنے کا غیر ذمہ دارانہ رویہ نہ صرف بھارت بلکہ پورے برِصغیر کے لیے ایک ناقابلِ کنٹرول حیاتیاتی تباہی اور بڑے ہیلتھ کرائسز کا سبب بن سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ایسی غفلت کا مظاہرہ کرنے پر نئی دہلی سرکار کو بین الاقوامی اداروں کے سامنے سخت جوابدہ ہونا چاہیے۔