افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے جواب میں ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی دھمکی دے دی۔

September 1, 2026

سید علی شاہ گیلانی کی پانچویں برسی پر ان کی طویل سیاسی جدوجہد، نظریاتی ثابت قدمی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے کردار کو یاد کیا جا رہا ہے۔

September 1, 2026

طالبان کی بے لگام حکمرانی: سرِپل میں چار نہتے نوجوان قتل، بااثر عناصر قانون سے بالاتر

افغانستان کے صوبہ سرِپل میں چار نہتے نوجوانوں کے دن دہاڑے قتل اور بااثر طالبان رہنماؤں سے وابستہ نیٹ ورکس کو حاصل استثنا نے طالبان حکومت کے قانون و انصاف کے دعووں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سرِپل میں چار نہتے نوجوان قتل

افغانستان کے صوبہ سرِپل میں چار نہتے نوجوانوں کے وحشیانہ قتل نے طالبان انتظامیہ کے نظامِ عدل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گورنر غور احمد شاہ دین دوست کے قریبی حلقوں پر عائد الزامات اور کارروائی کا نہ ہونا بااثر افراد کے لیے مکمل استثنا کو ظاہر کرتا ہے۔

May 29, 2026

سرِپل: افغانستان کے صوبہ سرِپل میں دن دہاڑے چار نہتے نوجوانوں کے وحشیانہ قتل کی لرزہ خیز واردات نے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان نوجوانوں کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا، جس کے بعد طالبان کی زیرِ نگرانی قائم امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کے دعووں کی قلعی کھل گئی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ طالبان کی بے لگام حکمرانی میں عام اور بے قصور مقامی شہری مسلسل اپنی جانوں کی قیمت چکا رہے ہیں اور ان کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

قتل کا الزام

سفارتی اور مقامی مبصرین کے مطابق اس لرزہ خیز قتلِ عام کا براہِ راست الزام صوبہ غور کے طالبان گورنر احمد شاہ دین دوست سے وابستہ ایک بااثر شخص اور اس کے مسلح نیٹ ورک پر عائد کیا جا رہا ہے۔ کابل انتظامیہ اور مقامی سکیورٹی حکام کی جانب سے اس واضح سراغ کے باوجود اب تک ملزمان کے خلاف کسی قسم کی تادیبی یا قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ یہ خاموشی طالبان حکومت کے اندر موجود اس گہری اور کڑوی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے جہاں بااثر کمانڈروں اور حکومتی عہدیداروں کو قانون سے بالاتر سمجھا جاتا ہے۔

بااثر حلقوں کے لیے استثناء

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ طالبان کے نام نہاد نظامِ عدل میں اختیارات کے مجرمانہ استعمال اور احتساب کے مکمل فقدان کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جب اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں اور گورنرز سے منسلک مسلح نیٹ ورکس کھلے عام گلی کوچوں میں شہریوں کا خون بہائیں اور انہیں ریاست یا قانون کے کسی انجام کا خوف نہ ہو، تو وہاں قانونی بالادستی عملاً دم توڑ دیتی ہے۔ اس طرح کا ماحول مجرموں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جس کے نتیجے میں طالبان کے وفادار جنگجوؤں کو عوامی جان و مال سے کھیلنے کا پروانہ مل جاتا ہے۔

عوامی تحفظ کا خاتمہ

انسانی حقوق کے متبادل جائزوں اور سلامتی کے ماہرین کے مطابق، سرِپل میں ہونے والی یہ حالیہ خونریزی واضح کرتی ہے کہ افغانستان میں عوامی تحفظ اب عملاً ختم ہو چکا ہے۔ طالبان کا سیکیورٹی اپریٹس عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے اپنے بااثر رہنماؤں کے جرائم پر پردہ ڈالنے اور ان کے عسکری نیٹ ورکس کو تحفظ دینے میں مصروف ہے۔ نہتے نوجوانوں کا یہ بہیمانہ قتل اس بات کی تصدیق ہے کہ بین الاقوامی تنہائی کے شکار اس نظام میں عام افغان شہری نہ صرف معاشی بلکہ بنیادی ترین حقِ زیست سے بھی محروم ہو چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *