سرِپل: افغانستان کے صوبہ سرِپل میں دن دہاڑے چار نہتے نوجوانوں کے وحشیانہ قتل کی لرزہ خیز واردات نے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان نوجوانوں کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا، جس کے بعد طالبان کی زیرِ نگرانی قائم امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کے دعووں کی قلعی کھل گئی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ طالبان کی بے لگام حکمرانی میں عام اور بے قصور مقامی شہری مسلسل اپنی جانوں کی قیمت چکا رہے ہیں اور ان کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
قتل کا الزام
سفارتی اور مقامی مبصرین کے مطابق اس لرزہ خیز قتلِ عام کا براہِ راست الزام صوبہ غور کے طالبان گورنر احمد شاہ دین دوست سے وابستہ ایک بااثر شخص اور اس کے مسلح نیٹ ورک پر عائد کیا جا رہا ہے۔ کابل انتظامیہ اور مقامی سکیورٹی حکام کی جانب سے اس واضح سراغ کے باوجود اب تک ملزمان کے خلاف کسی قسم کی تادیبی یا قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ یہ خاموشی طالبان حکومت کے اندر موجود اس گہری اور کڑوی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے جہاں بااثر کمانڈروں اور حکومتی عہدیداروں کو قانون سے بالاتر سمجھا جاتا ہے۔
بااثر حلقوں کے لیے استثناء
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ طالبان کے نام نہاد نظامِ عدل میں اختیارات کے مجرمانہ استعمال اور احتساب کے مکمل فقدان کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جب اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں اور گورنرز سے منسلک مسلح نیٹ ورکس کھلے عام گلی کوچوں میں شہریوں کا خون بہائیں اور انہیں ریاست یا قانون کے کسی انجام کا خوف نہ ہو، تو وہاں قانونی بالادستی عملاً دم توڑ دیتی ہے۔ اس طرح کا ماحول مجرموں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جس کے نتیجے میں طالبان کے وفادار جنگجوؤں کو عوامی جان و مال سے کھیلنے کا پروانہ مل جاتا ہے۔
عوامی تحفظ کا خاتمہ
انسانی حقوق کے متبادل جائزوں اور سلامتی کے ماہرین کے مطابق، سرِپل میں ہونے والی یہ حالیہ خونریزی واضح کرتی ہے کہ افغانستان میں عوامی تحفظ اب عملاً ختم ہو چکا ہے۔ طالبان کا سیکیورٹی اپریٹس عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے اپنے بااثر رہنماؤں کے جرائم پر پردہ ڈالنے اور ان کے عسکری نیٹ ورکس کو تحفظ دینے میں مصروف ہے۔ نہتے نوجوانوں کا یہ بہیمانہ قتل اس بات کی تصدیق ہے کہ بین الاقوامی تنہائی کے شکار اس نظام میں عام افغان شہری نہ صرف معاشی بلکہ بنیادی ترین حقِ زیست سے بھی محروم ہو چکا ہے۔