"> روس کا طالبان کی عسکری و دفاعی نظام کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

روس کا طالبان کو جدید اسلحہ اور دفاعی نظام دینے سے انکار، سکیورٹی خدشات برقرار

روس نے سکیورٹی خدشات کے باعث طالبان کی جدید دفاعی نظام اور اسلحے کی درخواست مسترد کر دی، جبکہ کابل کی یقین دہانیوں کے باوجود عسکری امداد سے انکار برقرار رکھا۔
روس نے سکیورٹی خدشات کے باعث طالبان کے وزیرِ دفاع ملا یعقوب کی جانب سے جدید عسکری و دفاعی نظام کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

ماسکو سکیورٹی کانفرنس میں روس کا طالبان کو جدید دفاعی نظام اور عسکری اسلحہ دینے سے انکار۔ ملا یعقوب کے استحکام کے دعوے مسترد، روسی حکام کے داعش خراسان پر سنگین خدشات۔

May 30, 2026

روس نے افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے جدید عسکری اسلحے اور پیشہ ورانہ دفاعی نظام کی فراہمی کی درخواست کو ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ماسکو میں منعقدہ ایک بین الاقوامی سکیورٹی کانفرنس کے دوران سامنے آئی، جہاں دونوں فریقین کے درمیان عسکری مشاورت کا سلسلہ تو جاری رہا، تاہم روس نے علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر کابل کو جدید ترین فوجی سازوسامان دینے سے صاف انکار کر دیا۔

کانفرنس کے دوران طالبان کے عبوری وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد نے ماسکو میں افغانستان کے لیے ایک پیشہ ورانہ دفاعی نظام کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کریملن سے عسکری شعبے میں مزید مضبوط تعاون اور دفاعی مدد فراہم کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ ملا یعقوب مجاہد نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں مکمل استحکام آ چکا ہے اور دہشت گرد تنظیم داعش خراسان کا مؤثر خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو یقین دہانی کرائی کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

تاہم، روسی حکام نے طالبان کے ان دعووں اور یقین دہانیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ماسکو کا موقف ہے کہ طالبان کے دعووں کے برعکس افغانستان اب بھی سرحد پار جرائم اور دہشت گردی کا ایک بڑا ذریعہ بنا ہوا ہے۔

روس کو خاص طور پر وسطی ایشیائی عسکری تنظیموں اور داعش خراسان کی افغان سرزمین پر موجودگی اور ان کی جانب سے خطے کی سکیورٹی کو لاحق خطرات پر شدید تحفظات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد بار رابطوں اور درخواستوں کے باوجود روس نے طالبان کو کسی بھی قسم کے جدید یا بھاری ہتھیاروں کی فراہمی سے گریز کی پالیسی برقرار رکھی ہے۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق، اگرچہ حال ہی میں ماسکو اور طالبان کے درمیان ایک فوجی و تکنیکی تعاون کا معاہدہ طے پایا ہے، مگر اس کی تفصیلات کو انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے۔ رپورٹس سے واضح ہوتا ہے کہ روس اس مرحلے پر طالبان کو براہِ راست عسکری اسلحہ فراہم کر کے عالمی سطح پر کسی نئے تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔

دونوں فریقوں کے درمیان ماسکو میں جاری عسکری مشاورت کو خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم تو دیکھا جا رہا ہے، لیکن روس کا سخت رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ طالبان پر سکیورٹی کے محاذ پر مکمل اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *