روس نے افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے جدید عسکری اسلحے اور پیشہ ورانہ دفاعی نظام کی فراہمی کی درخواست کو ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ماسکو میں منعقدہ ایک بین الاقوامی سکیورٹی کانفرنس کے دوران سامنے آئی، جہاں دونوں فریقین کے درمیان عسکری مشاورت کا سلسلہ تو جاری رہا، تاہم روس نے علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر کابل کو جدید ترین فوجی سازوسامان دینے سے صاف انکار کر دیا۔
کانفرنس کے دوران طالبان کے عبوری وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد نے ماسکو میں افغانستان کے لیے ایک پیشہ ورانہ دفاعی نظام کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کریملن سے عسکری شعبے میں مزید مضبوط تعاون اور دفاعی مدد فراہم کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ ملا یعقوب مجاہد نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں مکمل استحکام آ چکا ہے اور دہشت گرد تنظیم داعش خراسان کا مؤثر خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو یقین دہانی کرائی کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
Russia Refuses to Provide Defence Systems and Weapons to Taliban Despite Mullah Yaqoob’s Demands
— Afghan Times (@AfghanTimes7) May 29, 2026
MOSCOW —
Taliban Defence Minister Mullah Mohammad Yaqoob Mujahid has called for a “professional defence system” for Afghanistan during an international security conference in… pic.twitter.com/qNDAjcOJhn
تاہم، روسی حکام نے طالبان کے ان دعووں اور یقین دہانیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ماسکو کا موقف ہے کہ طالبان کے دعووں کے برعکس افغانستان اب بھی سرحد پار جرائم اور دہشت گردی کا ایک بڑا ذریعہ بنا ہوا ہے۔
روس کو خاص طور پر وسطی ایشیائی عسکری تنظیموں اور داعش خراسان کی افغان سرزمین پر موجودگی اور ان کی جانب سے خطے کی سکیورٹی کو لاحق خطرات پر شدید تحفظات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد بار رابطوں اور درخواستوں کے باوجود روس نے طالبان کو کسی بھی قسم کے جدید یا بھاری ہتھیاروں کی فراہمی سے گریز کی پالیسی برقرار رکھی ہے۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق، اگرچہ حال ہی میں ماسکو اور طالبان کے درمیان ایک فوجی و تکنیکی تعاون کا معاہدہ طے پایا ہے، مگر اس کی تفصیلات کو انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے۔ رپورٹس سے واضح ہوتا ہے کہ روس اس مرحلے پر طالبان کو براہِ راست عسکری اسلحہ فراہم کر کے عالمی سطح پر کسی نئے تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔
دونوں فریقوں کے درمیان ماسکو میں جاری عسکری مشاورت کو خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم تو دیکھا جا رہا ہے، لیکن روس کا سخت رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ طالبان پر سکیورٹی کے محاذ پر مکمل اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔