بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اپیندر دویدی نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے گیدڑ بھبکی دی ہے کہ بھارتی مسلح افواج آپریشن سندور 2.0 کے لیے چوبیس گھنٹے تیاری کر رہی ہیں. نئی دہلی میں پریس کانفرنس اور بھارتی خبر رساں ادارے ’اے این آئی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل دویدی نے اعتراف کیا کہ پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کی سرحد پر اختیار کیا گیا جارحانہ عسکری متبادل اب بھی برقرار ہے اور موجودہ صورتحال محض عارضی طور پر جنگ بندی ہے۔
انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ ضرورت پڑنے پر نہ صرف بری فوج بلکہ بھارتی فضائیہ اور بحریہ بھی نئی عسکری مہم جوئی کے لیے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ بھارت نے مئی 2025 میں پاکستان کے خلاف ناکام مہم جوئی کی تھی جسے ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا گیا تھا۔
معلوماتی جنگ اور داخلی بیانیے کا اعتراف
بھارتی آرمی چیف نے اپنے بیان میں ملکی سطح پر گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیے ’انفارمیشن وارفیر‘ (معلوماتی جنگ) کا سہارا لینے کا بھی اعتراف کیا۔ جنرل دویدی کا کہنا تھا کہ معلوماتی جنگ صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتی ہے جب پوری قوم سیکیورٹی اداروں کے فراہم کردہ بیانیے پر یکجا ہو کر بھروسا کرے۔
مبصرین کے مطابق بھارتی سیکیورٹی فورسز کا یہ اعتراف ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے عوام کو جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے مطمئن رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ دورِ حاضر کا میدانِ جنگ اس قدر شفاف ہو چکا ہے کہ سرحد پار کی ہر نقل و حرکت فریقین کے سامنے واضح ہوتی ہے۔
سنجیدہ آرمی چیف کا مستحق
جنرل اپیندر دویدی کے اس اشتعال انگیز بیان پر پاکستان اور بین الاقوامی دفاعی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت خطے کا رہنما بننے کا دعویٰ تو کرتا ہے، لیکن اس کے آرمی چیف کا یہ غیر ذمہ دارانہ بیان ایک انتہائی نامناسب طرزِ عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کا بنیادی سبب خود بھارت ہے، جو مسلسل اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف دباؤ، دھمکیوں اور کشیدگی پر مبنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ بھارتی عسکری قیادت کی یہ گفتگو تیزی سے داخلی سیاسی بیانیوں، بالخصوص بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریات کے زیرِ اثر دکھائی دیتی ہے، جہاں پاکستان مخالف بیانیے کو صرف داخلی سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
مئی 2025 کی ناکامی
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، مئی 2025 میں بھارتی فوج کو اس وقت بدترین سفارتی اور عسکری ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا جب اس نے مودی سرکار کے انتہا پسندانہ سیاسی ایما پر پاکستان کے خلاف مہم جوئی کی ناکام کوشش کی تھی۔ اگر بھارت نے اب دوبارہ آپریشن سندور 2.0 کا خواب دیکھنے کی جرات کی، تو اسے ماضی سے بھی زیادہ عبرت ناک انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مئی 2025 کے بعد سے پاکستان کو اپنی پیشہ ورانہ عسکری صلاحیت، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور تزویراتی تحمل کے باعث عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ پاکستان کی یہ سفارتی برتری اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا اب اسلام آباد کو خطے میں ایک ذمہ دار سلامتی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
پائیدار امن کا واحد راستہ
سیاسی و دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارتی مسلح افواج کو سیاسی رنگ دی گئی مہمات اور عوامی رائے کو گمراہ کرنے کے لیے پروپیگنڈا کارروائیوں کے بجائے مؤثر دفاعی صلاحیت اور علاقائی استحکام پر توجہ دینی چاہیے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا خواب دھمکیوں اور کشیدگی کے مسلسل چکر سے نہیں، بلکہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام حل طلب تنازعات پر بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
پاکستان امن، علاقائی استحکام اور سفارتی روابط کو ہمیشہ ترجیح دیتا رہے گا، تاہم اپنے قومی مفادات اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ملکی مسلح افواج ہر وقت مکمل طور پر تیار اور الرٹ ہیں۔