مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی حکام کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف مذہبی تعصب اور ہٹ دھرمی پر مبنی کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت کٹھ پتلی اداروں کے ذریعے اب خصوصاً مدارس اور دینی درسگاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارتی نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق بھارت کی بدنامِ زمانہ قومی تحقیقاتی ایجنسی نے سرینگر اور شوپیاں کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کاروائیاں کی ہیں۔
مدارس پر چھاپے
ذرائع کے مطابق بھارتی تحقیقاتی ادارے نے شوپیاں میں واقع مشہور دینی درسگاہ جامعہ سراج العلوم پر چھاپہ مارا، جسے بھارتی حکومت پہلے ہی یکطرفہ طور پر غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ اس کے علاوہ، پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے تصدیق کی ہے کہ این آئی اے کے حکام نے شوپیاں ہی کے علاقے امام صاحب میں واقع ایک مقامی اسکول کی بھی تلاشی لی اور وہاں موجود تعلیمی ریکارڈ کو قبضے میں لے لیا۔
حریت قیادت نشانے پر
سفاکانہ کاروائیوں کے اسی تسلسل میں مرکزی ایجنسی کی ایک اور ٹیم نے مولو چترگام میں جماعتِ اسلامی مقبوضہ کشمیر کے سابق سربراہ شہزادہ وسیم کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بولا اور وہاں موجود اہلخانہ کو محصور کر کے گھنٹوں تلاشی لی۔ دوسری جانب سرینگر کے علاقے لال بازار میں واقع خواتین کی معروف دینی درسگاہ جامعہ البنات پر بھی این آئی اے نے چھاپہ مارا، جہاں تلاشی کے بہانے وہاں موجود طالبات اور خواتین کو شدید ہراساں کیا گیا، جس پر مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
مقبوضہ جموں وکشمیرمیں قابض بھارت کی مسلمانوں کیخلاف مذہبی تعصب پرمبنی کارروائیاں عروج پر
— PTV News (@PTVNewsOfficial) May 31, 2026
مذہبی تعصب میں مبتلا مودی سرکار کٹھ پتلی اداروں کے ذریعے مدارس اوردینی درسگاہوں کونشانہ بنانے لگی
*بھارتی نیوزایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق؛*
بھارتی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے )… pic.twitter.com/kgb6EoBQaz
مودی سرکار کا ایجنڈا
سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق مقبوضہ وادی میں مسلم دینی، فلاحی اور تعلیمی اداروں پر یہ حالیہ چھاپے فاشسٹ مودی سرکار کے مسلم دشمن اور جابرانہ ایجنڈے کا واضح ثبوت ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کی غاصب حکومت طاقت کے بہیمانہ استعمال اور فوجی بل بوتے پر کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کے لیے اٹھنے والی پرامن آواز کو دبانا چاہتی ہے، جبکہ وادی میں کشمیریوں کے بنیادی انسانی، مذہبی اور سیاسی حقوق مسلسل سلب کیے جا رہے ہیں۔
عالمی برادری سے مطالبہ
مقبوضہ کشمیر کے عوامی حلقوں اور حریت قیادت نے بھارتی فورسز اور تحقیقاتی اداروں کی ان ہٹ دھرمی پر مبنی کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ عوام نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں اور مسلم اداروں کی جبری بندش کا فوری نوٹس لیں اور بھارت کو کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔