وفاقی حکومت نے صحافی شہباز رانا کی ٹیکس وصولیوں اور محصولات میں مبینہ کمی سے متعلق رپورٹنگ پر اپنا باضابطہ اور سخت ترین سرکاری ردِعمل جاری کرتے ہوئے ٹیکس شارٹ فال کے تمام دعووں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ وضاحتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ میڈیا میں محصولات کے بیٹھ جانے یا کسی مالیاتی بحران سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں ترمیمی مالیاتی ڈھانچے اور زمینی معاشی حقائق کے بالکل برعکس اور گمراہ کن ہیں۔
شارٹ فال کے دعوے
سرکاری حکام کے مطابق میڈیا کے بعض حلقوں میں فنڈز کی کمی اور مالی بحران کا تاثر دینے کے لیے مسلسل 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا من گھڑت راگ الاپا جا رہا ہے، جو کہ حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ مالی سال کے آغاز پر ابتدائی تخمینے مختلف معاشی مفروضوں پر قائم کیے جاتے ہیں، تاہم ملک و عالمی سطح پر بدلتے ہوئے معاشی حالات، افراطِ زر میں اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی جغرافیائی سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ان میں ترامیم کی جاتی ہیں۔
موجودہ معاشی منظرنامے کے تحت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ باقاعدہ مشاورت اور باہمی رضامندی کے بعد سالانہ ریونیو ہدف کو پہلے ہی کم کر کے 13,000 ارب روپے کر دیا گیا تھا تاکہ یہ حقیقی اشاریوں سے مطابقت رکھ سکے۔
ایف بی آر کی کارکردگی
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے میں محصولات کی وصولی کے حقیقی اور مصدقہ اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں، جو کسی بھی قسم کے بحران کے بیانیے کی کھلی نفی کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت اور ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے 11 مہینوں کے دوران ریکارڈ 11,257 ارب روپے کا ٹیکس کامیابی سے جمع کر لیا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ترمیمی مالیاتی ڈھانچے اور ہدف کے مقابلے میں ایف بی آر نے 99.8 فیصد (یعنی عملاً 100 فیصد) ہدف حاصل کیا ہے، جبکہ مئی کے مہینے میں 994 ارب روپے کا محصولات جمع کیا گیا، جو کہ مجموعی طور پر ماہانہ ہدف کا 97 فیصد بنتا ہے اور کارکردگی کے تسلسل کا ثبوت ہے۔
ریونیو ہدف کی سمت
ان واضح اعداد و شمار کی موجودگی میں محصولات کے انہدام یا وفاقی خزانے پر کسی بڑے دباؤ کا دعویٰ کرنا محض قیاس آرائی اور سنسنی خیزی پھیلانے کی کوشش ہے۔ نظرثانی شدہ مالیاتی فریم ورک کے تحت جون 2026 کا محصولات ہدف بھی پرانے اعداد و شمار کے بجائے نئے فریم ورک کے مطابق مقرر کیا گیا ہے۔ جون کا ہدف 1,727 ارب روپے مقرر ہے، جس کے لیے پچھلے سال کے مقابلے میں 15 فیصد نمو درکار ہے، اور ایف بی آر اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مکمل طور پر درست سمت میں گامزن ہے۔
تاجروں کو یقین دہانی
وفاقی حکومت نے ملکی صنعت کاروں، تاجر برادری، سرمایہ کاروں اور عام ٹیکس دہندگان کو مکمل اطمینان دلاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریونیو شارٹ فال کا بیانیہ چونکہ بے بنیاد ہے، اس لیے کسی بھی غیر معمولی یا سخت اقدامات کی ضرورت نہیں ہے۔ اعلامیے میں دوٹوک الفاظ میں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اس مبینہ شارٹ فال کو جواز بنا کر مالیاتی سال کے آخری مہینے (جون) میں کسی بھی قسم کے اضافی ٹیکسز، جبری نفاذ کے اقدامات، یا کسی خصوصی ریونیو مہم کا کوئی امکان نہیں ہے، اور اس حوالے سے گردش کرنے والی تمام افواہیں لغو ہیں۔
صحافت کا تقاضا
حکومت نے اپنے اعلامیے کے اختتام پر زور دیا ہے کہ مالیاتی اور معاشی امور پر عوامی تبصرے اور میڈیا رپورٹس ہمیشہ موجودہ سرکاری اعداد و شمار اور تازہ ترین معاشی تناظر کی بنیاد پر ہونی چاہئیں نا کہ پرانے اور غیر متعلقہ پیمانوں کے انتخابی استعمال پر۔ بدلتے ہوئے معاشی حالات اور ترمیمی تخمینوں کو نظرانداز کر کے من پسند نتائج اخذ کرنا ذمہ دارانہ صحافت کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے۔ مالیاتی تبصروں میں حقائق اور سیاق وسباق دونوں کا برقرار رہنا ناگزیر ہے۔