کابل: رپورٹ کے مطابق افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان حکومت نے ملک کی شیعہ برادری (جو کل آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہے) پر اپنی مذہبی اور سماجی پابندیوں میں بتدریج خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔ کابل کے ایک سینیئر شیعہ عالم، آیت اللہ حسین داد شریفی نے باقاعدہ الزام عائد کیا ہے کہ طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں نے انہیں عارضی نکاح (نکاح متعہ) کا معاہدہ کروانے پر طلب کیا، تفتیش کی اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ شیعہ عالم کے مطابق تفتیش کے دوران ایک اہلکار نے ان کے منہ پر مکا مارا جس سے ان کی پگڑی گر گئی۔ مزید برآں، کابل کے درجنوں شیعہ علماء کو اس بات کی تحریری ضمانت دینے پر مجبور کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے دوبارہ عارضی نکاح کا انعقاد کروایا تو انہیں 6 ماہ قید کاٹنی ہوگی۔
فقہ جعفریہ کی منسوخی
رپورٹ کے مطابق طالبان سے قبل قائم افغان حکومت نے 2009 کے شیعہ پرسنل سٹیٹس قانون کے تحت خاندانی معاملات (نکاح، طلاق، وراثت) میں جعفری فقہ کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے رکھی تھی۔ تاہم، اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے سابقہ آئین اور قوانین کو معطل کر کے دیگر تمام اسلامی مکاتبِ فکر کو یکسر نظرانداز کر دیا ہے اور صرف سنی حنفی فقہ کو فروغ دے رہے ہیں، جس میں عارضی نکاح جائز نہیں ہے۔ طالبان نے شیعہ اکثریتی صوبوں کے تعلیمی نصاب سے بھی فقہ جعفریہ کو خارج کر دیا ہے۔ 2024 کے اخلاقی قانون، 2026 کے فوجداری ضابطے اور فروری 2026 کے نئے قوانین کے تحت حنفی مکتبِ فکر کو چھوڑنے پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے اور مذہبی مبلغین کے لیے حنفی ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
جبری مداخلت
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان کے اہلکار اب سڑکوں پر ہزارہ شیعہ جوڑوں کو عارضی نکاح کے شبے میں روک کر حراست میں لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، صوبہ غزنی کے جنوب مشرقی علاقے نوآباد میں طالبان کی اخلاقی وزارت نے مقامی شیعہ نمازیوں کو سخت وارننگ دی ہے کہ وہ اپنی فقہ کے برعکس مغرب اور عشاء کی نمازیں الگ الگ ادا کریں (جبکہ شیعہ فقہ میں انہیں اکٹھا پڑھنا معمول ہے)، اور حکم نہ ماننے پر مساجد بند کرنے اور قید کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس سے قبل عاشورہ کے اجتماعات کو بھی محدود کیا گیا، جسے طالبان سکیورٹی اقدامات جبکہ شیعہ برادری مذہبی آزادی پر قدغن قرار دیتی ہے۔
دیگر مذہبی گروہ نشانے پر
طالبان کی یہ سختیاں صرف شیعہ برادری تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اسماعیلی شیعہ، صوفی اور سلفی مسلمانوں کو بھی غیر روایتی قرار دے کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ‘راوداری’ کی دسمبر 2025 کی رپورٹ کے مطابق، اسماعیلی اقلیت کو جبری تبدیلیٔ مذہب اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے، جبکہ جنوری 2026 میں بدخشاں میں اسماعیلیوں کو سنی اسلام قبول کرنے پر سرکاری ملازمتوں اور مالی امداد کی پیشکشیں کی گئیں۔ ستمبر 2025 میں مشہور صوفی رہنما سید ابراہیم گیلانی اور ان کے پیروکاروں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ کنڑ میں سنی سلفیوں کے مدارس بند کر دیے گئے۔
شیعہ رہنماؤں کا احتجاج
افغانستان کے شیعہ علماء کے اعلیٰ کمیشن نے 13 مئی کو آیت اللہ شریفی کے ساتھ ہونے والے توہین آمیز سلوک پر طالبان کی اخلاقی وزارت کے سامنے شدید احتجاج درج کرایا ہے۔ اگرچہ طالبان کے وزیر ملا عبد اللطیف منصور نے شیعہ رہنما سید حسن فاضل زادہ سے ملاقات میں زبانی طور پر تمام مکاتبِ فکر کے احترام کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس بدسلوکی اور پابندیوں پر طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف نے تاحال مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
سابق افغان حکام کی وارننگ
طالبان کے اس متعصبانہ رویے پر افغان مبصرین اور انسانی حقوق کے کارکنان شدید تنقید کر رہے ہیں۔ سابق رکنِ پارلیمان عارف رحمانی نے اسے سیاسی بصیرت کے خلاف اور غیر اخلاقی قرار دیا ہے۔ سابق افغان وزیر اطلاعات و ثقافت عبدالباری جہانی نے طالبان کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ: “آپ کے شیعہ بھائیوں کی مخالفت اب روز بروز شدید نفرت میں بدل رہی ہے؛ طالبان یا دنیا کی کوئی بھی بڑی طاقت ملک کے 6 سے 7 ملین (60 سے 70 لاکھ) شیعہ افراد کی مستقل دشمنی کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکے گی”۔