بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقے بکا خیل میں سکیورٹی فورسز کی حالیہ انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے حوالے سے اہم ترین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تزویراتی اور دفاعی ذرائع کے مطابق اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے خطرناک دہشت گردوں میں شامل شاہد، جو تنظیم میں کمانڈو کے نام سے جانا جاتا تھا، کی شناخت اور اس کے ماضی کے ریکارڈ سے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان اور پشتون تحفظ موومنٹ کے مابین مبینہ گٹھ جوڑ کے نئے اور ناقابلِ تردید شواہد حاصل ہوئے ہیں۔
پی ٹی ایم سے وابستگی
ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ہلاک ہونے والا دہشت گرد شاہد عرف کمانڈو ماضی میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کا ایک فعال کارکن اور باقاعدہ وابستگان میں شامل رہا ہے، جس نے بعد ازاں عسکریت پسندی کی راہ اختیار کرتے ہوئے کالعدم ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ اس گٹھ جوڑ کی تصدیق ایک منظرِ عام پر آنے والی تصویر سے بھی ہوتی ہے، جس میں ہلاک ہونے والے ٹی ٹی پی کمانڈر کمانڈو کو پی ٹی ایم کے سینئر اور مرکزی رہنما عبدالصمد کے ساتھ انتہائی قریبی ماحول میں بیٹھے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
گٹھ جوڑ کا نیٹ ورک
سیکیورٹی اور دفاعی ماہرین کے مطابق، اس قسم کے شواہد ان دیرینہ تحفظات کو تقویت دیتے ہیں کہ بظاہر سیاسی یا حقوق کی تحریکیں چلانے والے بعض عناصر کے پسِ پردہ روابط براہِ راست ملک دشمن اور عسکریت پسند نیٹ ورکس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
بنوں بکا خیل کارروائی کے بعد سامنے آنے والے ان حقائق نے اس نیٹ ورک کو مزید بے نقاب کر دیا ہے، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خطے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ان عناصر کے خلاف تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔