لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

بنوں آپریشن: ہلاک دہشت گرد کمانڈو کا پی ٹی ایم سے ماضی کا تعلق بے نقاب

بنوں کے علاقے بکا خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے تفتانِ ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر شاہد عرف کمانڈو کا پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے گہرا تعلق اور ماضی کی وابستگی کے دستاویزی شواہد سامنے آئے ہیں۔
بنوں کے علاقے بکا خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے تفتانِ ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر شاہد عرف کمانڈو کا پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے گہرا تعلق اور ماضی کی وابستگی کے دستاویزی شواہد سامنے آئے ہیں۔

بنوں بکا خیل کاروائی میں ہلاک ہونے والے ٹی ٹی پی دہشت گرد شاہد عرف کمانڈو کا پی ٹی ایم سے تعلق بے نقاب ہو گیا ہے، جس سے ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم گٹھ جوڑ کے شواہد مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

June 2, 2026

بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقے بکا خیل میں سکیورٹی فورسز کی حالیہ انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے حوالے سے اہم ترین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تزویراتی اور دفاعی ذرائع کے مطابق اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے خطرناک دہشت گردوں میں شامل شاہد، جو تنظیم میں کمانڈو کے نام سے جانا جاتا تھا، کی شناخت اور اس کے ماضی کے ریکارڈ سے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان اور پشتون تحفظ موومنٹ کے مابین مبینہ گٹھ جوڑ کے نئے اور ناقابلِ تردید شواہد حاصل ہوئے ہیں۔

پی ٹی ایم سے وابستگی

ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ہلاک ہونے والا دہشت گرد شاہد عرف کمانڈو ماضی میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کا ایک فعال کارکن اور باقاعدہ وابستگان میں شامل رہا ہے، جس نے بعد ازاں عسکریت پسندی کی راہ اختیار کرتے ہوئے کالعدم ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ اس گٹھ جوڑ کی تصدیق ایک منظرِ عام پر آنے والی تصویر سے بھی ہوتی ہے، جس میں ہلاک ہونے والے ٹی ٹی پی کمانڈر کمانڈو کو پی ٹی ایم کے سینئر اور مرکزی رہنما عبدالصمد کے ساتھ انتہائی قریبی ماحول میں بیٹھے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

گٹھ جوڑ کا نیٹ ورک

سیکیورٹی اور دفاعی ماہرین کے مطابق، اس قسم کے شواہد ان دیرینہ تحفظات کو تقویت دیتے ہیں کہ بظاہر سیاسی یا حقوق کی تحریکیں چلانے والے بعض عناصر کے پسِ پردہ روابط براہِ راست ملک دشمن اور عسکریت پسند نیٹ ورکس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

بنوں بکا خیل کارروائی کے بعد سامنے آنے والے ان حقائق نے اس نیٹ ورک کو مزید بے نقاب کر دیا ہے، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خطے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ان عناصر کے خلاف تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *