سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عادل راجہ کی جانب سے اسرائیلی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو کے اعلان کے بعد پاکستان کے سکیورٹی، عوامی اور دفاعی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ٹویٹ کے مطابق موصوف نے اسرائیلی صحافی یوسیف حائم سالاح کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی ہے جس میں انہوں نے مبینہ طور پر دونوں اطراف کی برف پگھلنے کا دعویٰ کرتے ہوئے افواجِ پاکستان کی خارجہ و دفاعی پالیسیوں کے خلاف سنگین ہرزہ سرائی کی ہے۔
ماضی کا ریکارڈ
تجزیہ کاروں کے مطابق ملکی اداروں کو عالمی سطح پر نشانہ بنانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی مذکورہ کردار بھارتی ہندوتوا لابی کے ساتھ سوشل میڈیا پر اسپیس سیشنز کر چکے ہیں، جہاں کشمیر کے معاملے پر متنازع گفتگو کی گئی۔ اسی طرح افغان عناصر اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے ساتھ کیے گئے انٹرویوز کا واحد محور بھی پاک فوج کو نشانہ بنانا اور کمزور کرنا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے بعض حامی سوشل میڈیا پر ان اقدامات سے لاتعلقی کا اظہار ضرور کرتے ہیں، لیکن عملاً ان کا بیانیے کا رخ اسی مخصوص ڈگر پر نظر آتا ہے جو ملکی اداروں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
غزہ سے توجہ ہٹانے کی کوشش
عوامی حلقوں کی جانب سے اس اقدام پر شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب اسرائیل کے ہاتھ غزہ کے معصوم مسلمانوں کے خون سے لتھڑے ہوئے ہیں، پاکستانی اداروں کو بدنام کرنے کے لیے اسرائیلی صحافیوں کے ساتھ پیار کی باتیں بڑھائی جا رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پچھلے سال مئی میں پاکستان کے دفاع کو چیلنج کرنے کی ناکام کوششیں کرنے والے اور ملک دشمن پروپیگنڈا کرنے والے عناصر اب کھل کر سامنے آ گئے ہیں، اور محض ریٹنگز اور سنسنی خیزی کے لیے معصوم فلسطینیوں کے قاتلوں کا ابلاغی آلہ کار بن رہے ہیں۔
پاکستان کا اصولی مؤقف
دوسری جانب دفاعی و سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مؤقف اس معاملے پر ہمیشہ سے واضح اور غیر مبہم رہا ہے۔ ریاستی سطح پر کسی بھی قسم کے خفیہ تعلقات یا دوغلے کھیل کے دعوے نہ تو کسی مستند ذریعے سے ثابت ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی سرکاری حیثیت موجود ہے۔
محض کسی انٹرویو یا ذاتی دعوے کو ٹھوس حقائق”بنا کر پیش کرنا صحافتی معیار نہیں بلکہ رائے اور قیاس آرائی ہے۔ اگر واقعی کوئی سنجیدہ الزام ہے تو اس کے ساتھ قابلِ تصدیق شواہد، دستاویزات اور معتبر ذرائع پیش کرنا لازم ہوتا ہے، ورنہ یہ صرف بیانیہ سازی رہ جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، پاکستان کی اسرائیل سے متعلق پالیسی برسوں سے اصولی اور عوامی سطح پر واضح ہے، اور اسے کسی فرد کے دعووں یا غیر مصدقہ بیانات سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ریاستی اداروں پر اس نوعیت کے سنگین الزامات بغیر ثبوت کے نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ عوام کو گمراہ کرنے کی واضح کوشش سمجھے جاتے ہیں۔
افواجِ پاکستان پر تعمیری تنقید اور اصلاحی گفتگو ہر وقت ممکن ہے، لیکن بیرونی بیساکھیوں کا سہارا لے کر ملکی سلامتی کے ضامن اداروں کو رگیدنے کی مہم کو کسی صورت عوامی پزیرائی حاصل نہیں ہو سکتی۔