سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک حالیہ ویڈیو نے پاکستان کے خلاف بیرونی سازشوں اور دہشت گردی کی پشت پناہی کے مبینہ نیٹ ورک کے حوالے سے ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔ بھارتی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل راجیش پوار کے ایک حالیہ بیان کو ملکی و بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے بھارت، اسرائیل اور افغان سرزمین کے درمیان پاکستان کے خلاف جاری ‘پروکسی وار’ (نیابتی جنگ) کا کھلا اور واضح اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔ اس ویڈیو کے منظرِ عام پر آتے ہی پاکستان کے سیکیورٹی اور سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ٹی ٹی پی اور بی ایل اے تعلقات
سوشل میڈیا صارفین اور سیکیورٹی ماہرین اس ویڈیو کو پاکستان کے اصولی مؤقف کے حق میں ایک بڑے اور ناقابلِ تردید ثبوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ اہم سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ بھارتی فوج کے اعلیٰ عہدیدار کے اس واضح اعتراف کے بعد اب کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی جیسی دہشت گرد تنظیموں کے پیچھے چھپے اصل چہروں اور ان کے سہولت کاروں کو سمجھنے کے لیے کسی اور ثبوت کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ یہ ویڈیو واضح کرتی ہے کہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کتنا گہرا بین الاقوامی گٹھ جوڑ متحرک ہے۔
پاکستان مخالف بیانیے کا تسلسل
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی بھارتی اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے ایسا پاکستان مخالف اور جارحانہ بیان سامنے آیا ہو۔ اس سے قبل بھارت کے موجودہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول بھی اپنے متعدد بیانات میں افغان سرزمین کے ذریعے پاکستان کے خلاف دہشت گرد پروکسیز کے استعمال، ان کی مالی معاونت اور تربیت کا کھلم کھلا اور بے باکانہ دعویٰ کر چکے ہیں۔
اجیت ڈوول کے اس جارحانہ نظریے پر بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے دیگر مہروں کی جانب سے بارہا مہرِ تصدیق ثبت کی گئی ہے، جس نے خطے میں بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ملکی خدشات کو ہمیشہ تقویت دی ہے۔
شواہد پیش کرنے کا مطالبہ
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ راجیش پوار کا حالیہ بیان اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے سامنے بھارت کا اصل مکروہ چہرہ لانے کے لیے کافی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے عالمی فورمز پر ‘ڈوزئیر’ کی شکل میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی پاکستان میں تخریب کاری کے شواہد پیش کرتا آیا ہے، جن کی تصدیق کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سے بھی ہو چکی ہے۔
حالیہ ویڈیو ثبوت کے بعد ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھائے تاکہ پاکستان میں معصوم جانوں کے ضیاع اور دہشت گردی کے نیٹ ورک میں ملوث بھارتی و بین الاقوامی گٹھ جوڑ کو دنیا کے سامنے مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے۔