روم: پاکستان اور اٹلی کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں مضبوط سفارتی روابط، بڑھتے ہوئے اعتماد اور وسیع تر تعاون دونوں ممالک کو مزید قریب لا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر پاکستان اور اٹلی نے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔
روم میں اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں منعقدہ ایک پُروقار دستخطی تقریب کے دوران اٹلی میں پاکستان کے سفیر مسٹر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، ہز ایکسی لینسی سفیر ریکارڈو گوارلیا نے اس تاریخی معاہدے پر دستخط کیے۔
اسٹریٹجک تعاون
تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ سفارتکاروں کے درمیان بالمشافہ ملاقات بھی ہوئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار، اس کی نوعیت اور رفتار پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ ملاقات میں پاکستان اور اٹلی کے روایتی طور پر خوشگوار اور تعاون پر مبنی تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں اقوام متحدہ اور یورپی یونین سمیت کثیرالجہتی فورمز پر باہمی تعاون بھی شامل ہے۔
جانبین نے اس نئے معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دوطرفہ تعاون کے موجودہ وسیع ڈھانچے میں ایک اہم اضافہ ہے، جو سفارتی وفود کے باہمی تبادلوں کو مزید سہل بنائے گا اور تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔ کثیر الجہتی تعاون سے لے کر عوامی سطح پر روابط تک، پاکستان اور اٹلی ایک ایسے تعلق کی تشکیل کر رہے ہیں جو اعتماد، تسلسل اور مشترکہ وژن پر مبنی ہے۔
شراکت داری کا پس منظر
سفارت کاری سے دفاع تک، تعلیم سے لے کر لیبر موبلٹی تک پاکستان اور اٹلی ایک کثیر الجہتی شراکت داری تشکیل دے رہے ہیں جو باہمی احترام اور مشترکہ ترقی پر مبنی ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان متعدد نئے معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں زیرِ غور ہیں، جبکہ 21 ایم او یوز یونیورسٹیوں اور تھنک ٹینکس کے درمیان اور 15 معاہدے دونوں حکومتوں کے درمیان مختلف شعبوں میں طے پا چکے ہیں۔ ان شعبوں میں سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون شامل ہے۔
اس شراکت داری کا تاریخی پس منظر بہت مضبوط ہے؛ اس سے قبل 2009 میں دفاعی تعاون کا معاہدہ، 2013 میں وزرائے خارجہ کے درمیان ‘اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان’ اور 2005 میں ‘جوائنٹ اکنامک کمیشن’ قائم کیا گیا تھا، جبکہ 1997 میں سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ، 1983 میں دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 میں حوالگی مجرمین کا معاہدہ طے پایا تھا۔
عملی شراکت داری
پاکستان اور اٹلی کا تعاون محض کاغذی معاہدوں سے آگے بڑھ کر ایسی عملی شراکت داریوں میں تبدیل ہو رہا ہے جو سفارت کاری، روزگار، تعلیم اور اقتصادی ترقی کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ اس کی واضع مثال 7 مئی 2025 کو پاکستان اور اٹلی کے درمیان اسلام آباد میں طے پانے والی لیبر موبلٹی اور مائیگریشن سے متعلق مفاہمتی یادداشت ہے، جو کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا لیبر معاہدہ ہے۔ اس تاریخی معاہدے کے تحت 10,500 مخصوص جاب کوٹہ پاکستانی ورک فورس کے لیے مختص کیا گیا ہے تاکہ پاکستانی نوجوان اٹلی میں روزگار کے بہترین مواقع حاصل کر سکیں۔
سفارتی اہمیت اور مستقبل
اٹلی کا اسلام آباد میں اپنا سب سے بڑا بیرونِ ملک سفارتی مشن قائم کرنے کا فیصلہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت اور عالمی شراکت داریوں کے فروغ کی عکاسی کرتا ہے۔ دستخطی تقریب کے اختتام پر پاکستانی سفیر علی جاوید نے اطالوی سیکرٹری جنرل کو پاکستانی وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستان کے دورے کی دعوت دی اور کہا کہ وہ 2026 کی آخری سہ ماہی میں ہونے والے ساتویں راؤنڈ آف بائی لیٹرل پولیٹیکل کنسلٹیشنز (دو طرفہ سیاسی مشاورت) کے لیے اس مصروفیت کے انعقاد کے خواہشمند ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں نئے تعمیر شدہ اطالوی سفارتخانے کے افتتاح میں بھی گہری دلچسپی کا اظہار کیا، جو دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔