امریکی فوج نے ایران کے اندر متعدد اہداف پر تازہ فضائی حملے کیے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی انتہائی سنگین حد تک پہنچ گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) اور ایرانی ذرائع ابلاغ نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان مسلسل آٹھویں رات کی فوجی کارروائی ہے۔
سینٹکام کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق ان حملوں کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کا تدارک کرنا اور ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی گزشتہ دنوں اردن میں امریکی فوجی دستوں پر ہونے والے حملوں کا براہِ راست جواب ہے، جس میں ملوث ایرانی فورسز کو فوری سزا دینے کے لیے یہ اہداف منتخب کیے گئے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے سیرک کے ساحلی علاقے اور حاجی آباد شہر کے قریبی مقامات پر بمباری کی ہے۔
روسی ذرائع ابلاغ نے اس حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ اردن میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر پوری قوت سے حملے کرنے کے احکامات جاری کیے تھے، جس کے بعد اس آپریشن میں تیزی آئی ہے۔