پاکستان نے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس کنٹری اسیسمنٹ رپورٹ (2023-2025) میں اٹھائے گئے نکات پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں افغان مہاجرین کے حوالے سے پاکستان کی چار دہائیوں پر محیط انسانی ہمدردانہ خدمات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
یورپی یونین کی جی ایس پی پلس کنٹری اسیسمنٹ رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے اسکیم کے تحت 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا ہے، جس میں انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور طرزِ حکمرانی سے متعلق پیش رفت کا احاطہ کیا گیا ہے، جبکہ قوانین کے مؤثر نفاذ کو بھی اہم چیلنج قرار دیا گیا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ یورپی کمیشن کی رپورٹ افغان شہریوں کی وطن واپسی کا ذکر کرتی ہے، جن میں کم از کم 10 فیصد افراد کو ملک بدر کیا گیا، تاہم رپورٹ اس حقیقت کو نظرانداز کرتی ہے کہ پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کا بوجھ اٹھاتا رہا ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد صرف محدود تعداد میں افغان شہری پاکستان آئے، جنہیں دراصل امریکا اور یورپی ممالک میں دوبارہ آباد کیا جانا تھا کیونکہ انہی ممالک نے تحفظ کے وعدے کیے تھے، مگر ان میں سے بیشتر پاکستان میں ہی منتظر رہے۔
پاکستان نے واضح کیا کہ اس نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، جس کی بھاری معاشی، سماجی اور سیکیورٹی قیمت چکائی گئی، جبکہ اس کے برعکس یورپ پہنچنے والے نسبتاً کم تعداد کے مہاجرین بھی متعدد یورپی ممالک میں بڑا سیاسی مسئلہ اور انتخابی مہمات کا موضوع بن چکے ہیں۔ پاکستان نے اپنی معاشی مشکلات کے باوجود مہاجرین کو پناہ، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے۔
پاکستانی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری متعدد مواقع پر پاکستان کے کردار کو دنیا کی سب سے بڑی اور طویل عرصے تک جاری رہنے والی مہاجر میزبانی کے طور پر سراہ چکی ہے، تاہم ایسی رپورٹس میں اس خدمت کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
پاکستان نے یہ بھی زور دیا کہ ہر خودمختار ریاست کو اپنے قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق غیرقانونی تارکینِ وطن کو واپس بھیجنے اور امیگریشن قوانین نافذ کرنے کا حق حاصل ہے، اور پاکستان بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ رپورٹ چار دہائیوں پر محیط انسانی ہمدردی پر مبنی خدمات کو تسلیم کرنے کے بجائے صرف حالیہ واپسی کے اقدامات پر توجہ مرکوز کرتی ہے، جبکہ اس بھاری مالی، سماجی اور سیکیورٹی بوجھ کو نظرانداز کرتی ہے جو پاکستان گزشتہ 40 برس سے برداشت کر رہا ہے۔