افغانستان میں طالبان کے دوبارہ برآمدِ اقتدار کے بعد خواتین کے کھیلوں پر عائد ہونے والی سخت پابندیوں کے نتیجے میں افغان خواتین فٹبال ٹیم کی کھلاڑیوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ ان پناہ گزین کھلاڑیوں میں ٹیم کی گول کیپر فاطمہ یوسفی اور مڈفیلڈر مونا امینی بھی شامل تھیں، جو اپنی جانیں بچانے کے لیے افغانستان سے نکل کر آسٹریلیا پہنچیں۔ واضح رہے کہ سال 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد خواتین کھلاڑیوں کو نہ صرف کھیل کے میدانوں سے دور کیا گیا بلکہ انہیں تعلیم اور آزادانہ زندگی کے بنیادی مواقع سے بھی محروم کر دیا گیا تھا۔
آسٹریلیا میں پناہ
طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹیم کی کئی کھلاڑی انتہائی خفیہ طور پر ملک سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں اور انہوں نے آسٹریلیا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کی۔ ان کھلاڑیوں نے ہجرت اور دیس پردیس کے کٹھن حالات کے باوجود اپنے کھیل اور خوابوں کو زندہ رکھا۔
پانچ سال تک مسلسل محنت، سخت تربیت اور انتھک جدوجہد کے بعد ان کھلاڑیوں کو ایک بڑی کامیابی اس وقت ملی جب عالمی فٹبال کی سب سے بڑی تنظیم ‘فیفا’ نے افغان خواتین ٹیم کو بین الاقوامی مقابلوں میں باقاعدہ شرکت کی اجازت دے دی۔
عالمی میدان میں واپسی اور تربیتی کیمپ
فیفا کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد اس وقت 23 افغان خواتین کھلاڑی نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں قائم ایک بین الاقوامی تربیتی کیمپ میں شریک ہیں، جہاں وہ کک آئی لینڈز کی فٹبال ٹیم کے خلاف شیڈول میچز کی تیاری کے لیے بھرپور مشقیں کر رہی ہیں۔ عالمی سطح پر ٹیم کی یہ واپسی افغان خواتین کے کھیلوں کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔
افغان خواتین کے حقوق کی آواز
نیوزی لینڈ میں موجود افغان کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں ہے، بلکہ یہ افغانستان میں موجود ان تمام خواتین اور لڑکیوں کی امیدوں کا محور ہے جو آج بھی اپنے بنیادی حقوق، تعلیم اور آزادی کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔
کھلاڑیوں کے مطابق وہ کھیل کے میدان میں اپنی کارکردگی کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی مظلوم قوم اور افغان خواتین کی توانا آواز بننے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔