مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

افغانستان میں دہشت گرد سرگرمیوں میں اضافہ، علاقائی سلامتی کو سنگین خطرات

عالمی جریدے کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت کی نئی پابندیوں اور تعلیمی تعطل نے خواتین کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔
عالمی جریدے کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت کی نئی پابندیوں اور تعلیمی تعطل نے خواتین کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔

افغانستان میں طالبان کے نئے قوانین اور تعلیمی پابندیوں کے باعث افغان خواتین کو درپیش مشکلات پر عالمی جریدے کی رپورٹ۔

June 4, 2026

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے خواتین اور بچیوں کی زندگیاں بدستور شدید مشکلات اور غیر یقینی صورتِ حال سے دو چار ہیں۔ برطانوی جریدے دی گارڈین کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے تحت خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق سے متعلق عالمی خدشات اب بھی برقرار ہیں، اور وقت کے ساتھ ساتھ ان پر عائد پابندیوں میں مزید سختی دیکھی جا رہی ہے۔

طالبات کا مستقبل

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں گزشتہ پانچ برس سے ساتویں جماعت سے اوپر کی طالبات کے لیے اسکولوں کی تعلیم بدستور معطل ہے۔ اس طویل تعلیمی تعطل کے باعث لاکھوں افغان لڑکیاں تعلیم کے بنیادی اور انسانی حق سے محروم ہو چکی ہیں، جس نے ملک کے مستقبل اور خواتین کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے اس صورتِ حال کو افغان تاریخ کا ایک تاریک باب قرار دیا ہے۔

قوانین اور عدالتی تبدیلیاں

برطانوی جریدے نے واضح کیا ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے نافذ کیے جانے والے نئے قوانین اور قواعد و ضوابط نے افغان خواتین کی روزمرہ زندگی کو مزید محدود کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں نکاح، طلاق اور خاندانی معاملات سے متعلق متعارف کرائے گئے بعض نئے قوانین پر انسانی حقوق کے حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی طالبان کے عدالتی نظام میں کی جانے والی حالیہ تبدیلیاں افغان خواتین کی آزادی اور ان کے قانونی تحفظ کے حوالے سے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی ہیں۔

عالمی برادری کا ردِعمل

دوسری جانب بین الاقوامی تنظیموں نے افغانستان کی موجودہ صورتِ حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق عالمی قوانین اور مسلمہ اصولوں کے باوجود افغانستان میں زمین حقائق تبدیل نہیں ہو سکے اور نہ ہی وہاں کوئی خاطر خواہ بہتری لائی جا سکی ہے۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے خواتین اور بچوں پر گھریلو تشدد کو مخصوص شرائط کے ساتھ قانونی حیثیت دیے جانے جیسے اقدامات نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ اور تشویشناک بنا دیا ہے، جس کے خلاف عالمی سطح پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *