عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے خواتین اور بچیوں کی زندگیاں بدستور شدید مشکلات اور غیر یقینی صورتِ حال سے دو چار ہیں۔ برطانوی جریدے دی گارڈین کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے تحت خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق سے متعلق عالمی خدشات اب بھی برقرار ہیں، اور وقت کے ساتھ ساتھ ان پر عائد پابندیوں میں مزید سختی دیکھی جا رہی ہے۔
طالبات کا مستقبل
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں گزشتہ پانچ برس سے ساتویں جماعت سے اوپر کی طالبات کے لیے اسکولوں کی تعلیم بدستور معطل ہے۔ اس طویل تعلیمی تعطل کے باعث لاکھوں افغان لڑکیاں تعلیم کے بنیادی اور انسانی حق سے محروم ہو چکی ہیں، جس نے ملک کے مستقبل اور خواتین کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے اس صورتِ حال کو افغان تاریخ کا ایک تاریک باب قرار دیا ہے۔
قوانین اور عدالتی تبدیلیاں
برطانوی جریدے نے واضح کیا ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے نافذ کیے جانے والے نئے قوانین اور قواعد و ضوابط نے افغان خواتین کی روزمرہ زندگی کو مزید محدود کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں نکاح، طلاق اور خاندانی معاملات سے متعلق متعارف کرائے گئے بعض نئے قوانین پر انسانی حقوق کے حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی طالبان کے عدالتی نظام میں کی جانے والی حالیہ تبدیلیاں افغان خواتین کی آزادی اور ان کے قانونی تحفظ کے حوالے سے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی ہیں۔
عالمی برادری کا ردِعمل
دوسری جانب بین الاقوامی تنظیموں نے افغانستان کی موجودہ صورتِ حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق عالمی قوانین اور مسلمہ اصولوں کے باوجود افغانستان میں زمین حقائق تبدیل نہیں ہو سکے اور نہ ہی وہاں کوئی خاطر خواہ بہتری لائی جا سکی ہے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے خواتین اور بچوں پر گھریلو تشدد کو مخصوص شرائط کے ساتھ قانونی حیثیت دیے جانے جیسے اقدامات نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ اور تشویشناک بنا دیا ہے، جس کے خلاف عالمی سطح پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے۔