بلوچستان کے کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کا دو افراد کو اغوا، ڈھائی کروڑ تاوان کا مطالبہ، جان سے مارنے کی دھمکی۔

July 26, 2026

فریڈم فرنٹ کا بغلان میں طالبان قافلے پر راکٹ حملہ، 7 اہلکار ہلاک، پنجشیر سے بھی مزاحمتی خبریں، بدخشاں میں طالبان کو بھاری نقصان کا دعویٰ۔

July 26, 2026

بلوچستان میں آپریشن العزم کے تحت اب تک فتنہ الہندوستان کے 16 دہشت گرد ہلاک، متعدد کمین گاہیں تباہ۔

July 26, 2026

کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی، فوجی تربیت اور انٹیلی جنس تبادلے پر تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

July 26, 2026

ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰ، امریکا کے ساتھ کشیدگی میں 200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک۔

July 26, 2026

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال۔

July 26, 2026

افغانستان میں دہشت گردوں کی بڑھتی سرگرمیاں، علاقائی سلامتی کے لیے خطرات

عالمی تنظیم سی ایس ٹی او اور روسی حکام نے افغانستان میں23 ہزار تک دہشتگردوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
عالمی تنظیم سی ایس ٹی او اور روسی حکام نے افغانستان میں23 ہزار تک دہشتگردوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

افغانستان میں عالمی دہشتگرد تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر سی ایس ٹی او اور روسی سکیورٹی کونسل کا اظہارِ تشویش؛ خطے اور یورپ کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق۔

June 5, 2026

افغانستان میں عالمی دہشتگرد تنظیموں کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور ان کی تخریبی کاروائیاں پورے خطے کے امن و امان کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہیں۔ عالمی سکیورٹی تنظیم ولیکٹو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (سی ایس ٹی او) نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ صورتحال اب محض افغانستان کا اندرونی مسئلہ نہیں رہی، بلکہ اس سے پورے خطے کا امن داؤ پر لگ گیا ہے۔

بڑھتے ہوئے خطرات

سی ایس ٹی او کے سیکریٹری جنرل تالاتبیک ماسادیکوف نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں بدامنی اور بین الاقوامی دہشتگرد گروہوں کی کاروائیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ افغان میڈیا جریدے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق تنظیم کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف آندرے سیرڈیُکوف بھی اس حوالے سے عالمی برادری کو خبردار کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر موجود ان دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث نہ صرف پڑوسی ممالک میں دہشتگردی کو فروغ مل رہا ہے، بلکہ اس کے اثرات یورپ اور ایشیا کے وسیع تر امن و استحکام کو بھی شدید متاثر کر رہے ہیں۔

ہزاروں دہشتگردوں کی موجودگی

دوسری جانب روسی سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے سنسنی خیز اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ روسی حکام کے مطابق اس وقت افغانستان میں لگ بھگ 18 ہزار سے 23 ہزار کے قریب عالمی دہشتگرد موجود ہیں جو مختلف نیٹ ورکس کے ذریعے خطے میں عدم استحکام پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں اور دہشتگردوں کی اتنی بڑی تعداد کی موجودگی پڑوسی ریاستوں کے لیے مستقل دفاعی اور سکیورٹی دباؤ کا سبب بنی ہوئی ہے، جس کے حل کے لیے فوری اور مشترکہ علاقائی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔

دیکھیے: افغانستان میں طالبان کی نئی پابندیاں؛ افغان خواتین کی زندگی شدید مشکلات سے دو چار

متعلقہ مضامین

بلوچستان کے کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کا دو افراد کو اغوا، ڈھائی کروڑ تاوان کا مطالبہ، جان سے مارنے کی دھمکی۔

July 26, 2026

فریڈم فرنٹ کا بغلان میں طالبان قافلے پر راکٹ حملہ، 7 اہلکار ہلاک، پنجشیر سے بھی مزاحمتی خبریں، بدخشاں میں طالبان کو بھاری نقصان کا دعویٰ۔

July 26, 2026

بلوچستان میں آپریشن العزم کے تحت اب تک فتنہ الہندوستان کے 16 دہشت گرد ہلاک، متعدد کمین گاہیں تباہ۔

July 26, 2026

کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی، فوجی تربیت اور انٹیلی جنس تبادلے پر تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

July 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *