آزاد کشمیر کی تمام سیاسی قیادت اور اپوزیشن جماعتیں جے اے اے سی کی ہٹ دھرمی، بلیک میلنگ اور دباؤ کی سیاست کے خلاف مکمل طور پر یکسو اور متحد ہیں

June 5, 2026

آزاد کشمیر حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کا بیانیہ گمراہ کن قرار دے دیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ 35 مطالبات کی منظوری کے بعد احتجاج کا اصرار سیاسی ضد ہے، قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

June 5, 2026

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم میں بھارتی صحافی کی جانب سے پاکستان کے خلاف کیے گئے سوال پر دوٹوک جواب دیتے ہوئے پاکستان کو ایک بڑا اور خود مختار ملک قرار دے دیا۔

June 5, 2026

آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممکنہ احتجاج اور لانگ مارچ کے پیش نظر حکومت نے امن و امان کے قیام کے لیے 12 ہزار اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

June 5, 2026

کابل میں اقوامِ متحدہ کی خاتون ملازمہ فرشتہ عمادی کا لرزہ خیز قتل عالمی اداروں کی ان رپورٹس کی تصدیق کرتا ہے کہ افغان سرزمین خواتین کے لیے ایک شدید مصیبت زدہ اور غیر محفوظ جگہ بن چکی ہے۔

June 5, 2026

افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور غیر ریاستی عناصر کی موجودگی نے جنوبی اور وسطی ایشیا کو ایک سنگین جیوپولیٹیکل بحران سے دوچار کر دیا ہے، جس کا حل مربوط علاقائی حکمتِ عملی میں پنہاں ہے۔

June 5, 2026

افغانستان میں دہشت گردوں کی بڑھتی سرگرمیاں، علاقائی سلامتی کے لیے خطرات

عالمی تنظیم سی ایس ٹی او اور روسی حکام نے افغانستان میں23 ہزار تک دہشتگردوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
عالمی تنظیم سی ایس ٹی او اور روسی حکام نے افغانستان میں23 ہزار تک دہشتگردوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

افغانستان میں عالمی دہشتگرد تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر سی ایس ٹی او اور روسی سکیورٹی کونسل کا اظہارِ تشویش؛ خطے اور یورپ کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق۔

June 5, 2026

افغانستان میں عالمی دہشتگرد تنظیموں کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور ان کی تخریبی کاروائیاں پورے خطے کے امن و امان کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہیں۔ عالمی سکیورٹی تنظیم ولیکٹو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (سی ایس ٹی او) نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ صورتحال اب محض افغانستان کا اندرونی مسئلہ نہیں رہی، بلکہ اس سے پورے خطے کا امن داؤ پر لگ گیا ہے۔

بڑھتے ہوئے خطرات

سی ایس ٹی او کے سیکریٹری جنرل تالاتبیک ماسادیکوف نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں بدامنی اور بین الاقوامی دہشتگرد گروہوں کی کاروائیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ افغان میڈیا جریدے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق تنظیم کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف آندرے سیرڈیُکوف بھی اس حوالے سے عالمی برادری کو خبردار کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر موجود ان دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث نہ صرف پڑوسی ممالک میں دہشتگردی کو فروغ مل رہا ہے، بلکہ اس کے اثرات یورپ اور ایشیا کے وسیع تر امن و استحکام کو بھی شدید متاثر کر رہے ہیں۔

ہزاروں دہشتگردوں کی موجودگی

دوسری جانب روسی سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے سنسنی خیز اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ روسی حکام کے مطابق اس وقت افغانستان میں لگ بھگ 18 ہزار سے 23 ہزار کے قریب عالمی دہشتگرد موجود ہیں جو مختلف نیٹ ورکس کے ذریعے خطے میں عدم استحکام پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں اور دہشتگردوں کی اتنی بڑی تعداد کی موجودگی پڑوسی ریاستوں کے لیے مستقل دفاعی اور سکیورٹی دباؤ کا سبب بنی ہوئی ہے، جس کے حل کے لیے فوری اور مشترکہ علاقائی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔

دیکھیے: افغانستان میں طالبان کی نئی پابندیاں؛ افغان خواتین کی زندگی شدید مشکلات سے دو چار

متعلقہ مضامین

آزاد کشمیر کی تمام سیاسی قیادت اور اپوزیشن جماعتیں جے اے اے سی کی ہٹ دھرمی، بلیک میلنگ اور دباؤ کی سیاست کے خلاف مکمل طور پر یکسو اور متحد ہیں

June 5, 2026

آزاد کشمیر حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کا بیانیہ گمراہ کن قرار دے دیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ 35 مطالبات کی منظوری کے بعد احتجاج کا اصرار سیاسی ضد ہے، قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

June 5, 2026

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم میں بھارتی صحافی کی جانب سے پاکستان کے خلاف کیے گئے سوال پر دوٹوک جواب دیتے ہوئے پاکستان کو ایک بڑا اور خود مختار ملک قرار دے دیا۔

June 5, 2026

آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممکنہ احتجاج اور لانگ مارچ کے پیش نظر حکومت نے امن و امان کے قیام کے لیے 12 ہزار اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

June 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *