افغانستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال ایک بار پھر خطے کے ممالک اور بین الاقوامی برادری کے لیے گہرے اور سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ علاقائی سکیورٹی تنظیموں، انٹیلی جنس اداروں اور بین الاقوامی مبصرین کی حالیہ رپورٹس مسلسل اس تلخ حقیقت کی جانب اشارہ کر رہی ہیں کہ افغان سرزمین پر غیر ریاستی مسلح گروہوں اور دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں میں اضافہ اب محض ایک ملک کا داخلی امن و امان کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ بحران اب ایک وسیع تر اور ٹرانس نیشنل سلامتی چیلنج کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور بالواسطہ طور پر یورپ تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ جغرافیائی اسٹریٹجک سنگم پر واقع ہونے کے باعث، افغانستان کا سکیورٹی خلا پورے خطے کے معاشی اور سیاسی ڈھانچے کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
زمینی حقائق
روسی سکیورٹی اداروں اور بعض دیگر علاقائی مانیٹرنگ نیٹ ورکس کی جانب سے پیش کیے گئے حالیہ تخمینوں کے مطابق، اس وقت افغانستان میں مختلف نیٹ ورکس سے وابستہ تقریباً 18ہزار سے 23ہزار تک شدت پسند اور دہشتگرد عناصر موجود ہیں۔ اگرچہ جنگ زدہ اور محدود رسائی والے خطوں میں ایسے اعداد و شمار کی سو فیصد آزادانہ تصدیق ہمیشہ ایک مشکل امر رہی ہے، تاہم خطے کے تمام اسٹیک ہولڈرز اس بنیادی نکتے پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ افغانستان میں مسلح غیر ریاستی عناصر کی محفوظ پناہ گاہیں اور تنظیمی ڈھانچے ایک مسلمہ حقیقت ہیں۔
کولیکٹو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (سی ایس ٹی او) کی جانب سے متواتر جاری ہونے والے انتباہات اس تشویش کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ تنظیم کے اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ کابل میں گورننس اور سیکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں کی محدود استعداد کے باعث، یہ انتہا پسند نیٹ ورکس اپنی جڑیں دوبارہ مضبوط کر رہے ہیں، جو سرحد پار دہشتگردی اور غیر قانونی انسانی نقل و حرکت کے بڑے خطرات کو جنم دے رہا ہے۔
خطرات کا خدشہ
افغانستان کی جغرافیائی حیثیت اسے دنیا کے اہم ترین خطوں کے درمیان ایک پل بناتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس اسٹریٹجک مرکز میں کوئی سکیورٹی خلا پیدا ہوا، اس کے اثرات فوری طور پر پڑوسی ریاستوں میں منتقل ہو گئے۔ موجودہ تناظر میں یہ صورتحال نہ صرف روایتی دفاعی اداروں کے لیے ایک چیلنج ہے، بلکہ یہ علاقائی تعاون کے موجودہ کثیر الجہتی فورمز کی کارکردگی اور افادیت پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑی کرتی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ شدت پسند گروہ صرف افغانستان کے اندرونی معاشی و سیاسی بحران کا فائدہ نہیں اٹھا رہے، بلکہ وہ خطے کے ممالک کے مابین موجود سیاسی تنازعات، کمزور سرحدی نگرانی کے نظام اور انٹیلی جنس کے محدود اشتراک جیسے خلا کو اپنے اسٹریٹجک مقاصد کے لیے نہایت چابکدستی سے استعمال کر رہے ہیں۔ یہی وہ بنیادی عوامل ہیں جو اس خطرے کو روایتی خطرات سے کہیں زیادہ پیچیدہ، مہلک اور طویل المدتی بنا دیتے ہیں۔
بیانیوں کا تضاد
اس بحران کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ مختلف علاقائی اور بین الاقوامی فریقین اس صورتحال کی تشریح اور وجوہات کو اپنے اپنے سیاسی مفادات کے چشمے سے دیکھتے ہیں۔ جہاں ایک طرف پڑوسی ممالک اور عالمی رپورٹس افغانستان کو شدت پسند گروہوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر پیش کرتی ہیں، وہاں دوسری طرف افغان حکام اور ان کے حامی مبصرین اس بیانیے کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ دہشتگردی کے ان نیٹ ورکس کا ایک بڑا حصہ سرحد پار کے عوامل، بیرونی فنڈنگ اور علاقائی ممالک کے عدم تعاون سے جڑا ہوا ہے۔
یہ گہرا بیانیاتی فرق اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے اس مسئلے کے پائیدار حل کی راہ میں سفارتی جمود پیدا کر رکھا ہے، اور جب تک اس جمود کو نہیں توڑا جائے گا، دہشتگردی کے خلاف کوئی بھی کوشش نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتی۔
دہشتگردی کی بدلتی حرکیات
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جدید دور میں دہشتگرد نیٹ ورکس کی نوعیت اب محض روایتی مسلح کارروائیوں یا گوریلا جنگ تک محدود نہیں رہی۔ ان تنظیموں نے اپنے بقا اور پھیلاؤ کے لیے جدید ترین طریقے اپنا لیے ہیں، جن میں آن لائن پروپیگنڈا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کی بھرتی، منشیات کی اسمگلنگ، اور غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورکس کا استعمال شامل ہے۔
ان ٹرانس نیشنل نیٹ ورکس نے سکیورٹی اداروں کے لیے پچھلی دہائیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ اب یہ جنگ صرف سرحدوں پر باڑ لگانے یا فوجی چوکیاں قائم کرنے سے نہیں جیتی جا سکتی، بلکہ اس کے لیے ڈیجیٹل اسپیس اور مالیاتی نظام پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے، جس میں خطے کی تمام ریاستوں کا فعال تعاون ناگزیر ہے۔
علاقائی تعاون کا فقدان
اس وقت علاقائی سطح پر سب سے بڑا خلا پالیسی اور عملی تعاون کا ہے۔ اگرچہ شنگھائی تعاون تنظیم اور سی ایس ٹی او جیسے مختلف بین الاقوامی فورمز پر انسدادِ دہشتگردی کے حوالے سے بلند بانگ بیانات اور عزم کا اظہار کیا جاتا ہے، لیکن جب بات عملی اقدامات کی آتی ہے تو وہاں مایوس کن صورتحال نظر آتی ہے۔
انٹیلی جنس شیئرنگ کا کوئی مربوط اور خودکار نظام موجود نہیں ہے، بارڈر مینجمنٹ کے پروٹوکولز ناقص ہیں اور مشترکہ سکیورٹی آپریشنز کے حوالے سے ریاستوں کے مابین جیوپولیٹیکل ترجیحات کا تصادم واضح ہے۔ اعتبار کی یہ کمی اور ایک دوسرے کے خلاف تزویراتی گہرائی تلاش کرنے کی پرانی پالیسیاں اس خطرے کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا رہی ہیں۔
وقت کا تقاضا اور حل
ان تمام حقائق سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ افغانستان کا مسئلہ اب محض ایک جغرافیائی خطے کا داخلی سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایک مہیب علاقائی چیلنج ہے جس کے حل کے لیے روایتی بیانات، الزامات کے تبادلوں اور وقتی حکمتِ عملیوں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ایک جامع اور مربوط علاقائی سکیورٹی فریم ورک تشکیل دیا جائے، جس میں سکیورٹی کے ساتھ ساتھ افغانستان کے اندر سیاسی استحکام اور معاشی بحالی کو بھی شامل کیا جائے۔ جب تک افغانستان کے عام شہری کو معاشی متبادل اور سیاسی تحفظ حاصل نہیں ہوگا، تب تک انتہا پسند گروہوں کے لیے زرخیز زمین موجود رہے گی۔
علاقائی طاقتوں کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ماضی کے جیوپولیٹیکل مفادات کے اسیر رہ کر پورے خطے کی سلامتی کو داؤ پر لگانا چاہتی ہیں، یا پھر ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کے لیے مشترکہ اور ٹھوس اقدامات کی طرف قدم بڑھاتی ہیں۔ سفارتی دائروں میں اب محض الفاظ کی نہیں، بلکہ زمین پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔