آزاد جموں و کشمیر میں آئندہ دنوں متوقع احتجاجی تحریک اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی جانے والی لانگ مارچ کی کال کے پیش نظر، حکومت نے ریاست میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ایک غیر معمولی اور جامع سیکیورٹی پلان تیار کر لیا ہے۔ باوثوق سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حکومتِ آزاد کشمیر نے مجموعی طور پر 14 ہزار اضافی سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی سفارش کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری معاونت طلب کر لی ہے، تاکہ کسی بھی امکانی بدامنی سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔
مختلف فورسز طلب
مجوزہ اسٹریٹجک پلان کے تحت وفاقی سطح پر مختلف سیکیورٹی فورسز سے بھاری نفری طلب کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس نفری میں سرفہرست تقریباً 6 ہزار اہلکار فرنٹیئر کانسٹبلری اور 5ہزار پاکستان رینجرز کے جوان شامل ہوں گے۔
اس کے علاوہ امن و امان کو قابو میں رکھنے کے لیے اسلام آباد پولیس اور سندھ پولیس کی اضافی نفری بھی آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں تعینات کرنے کی باقاعدہ سفارش کی گئی ہے۔ حکومتِ آزاد کشمیر نے صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے وفاقی وزارتِ داخلہ کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے جس میں نفری کی فوری فراہمی کا تقاضا کیا گیا ہے۔
اینٹی رائٹ فورس
سیکیورٹی پلان کی تفصیلات کے مطابق، طلب کی جانے والی مجموعی نفری کا 40فیصد حصہ اینٹی رائٹ (مظاہرین کو منتشر کرنے والے) سامان اور آنسو گیس کے ساتھ کلیدی شاہراہوں پر تعینات کیا جائے گا تاکہ ممکنہ لانگ مارچ یا پرتشدد احتجاجی صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے۔ اس کے برعکس، باقی ماندہ 40 فیصد اہلکاروں کو جدید اسلحہ اور ایمونیشن کے ساتھ انتہائی حساس سرکاری عمارات، تنصیبات اور مقامات پر تعینات کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بعض انتہائی حساس علاقوں میں سیکیورٹی کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے ایلیٹ کمانڈوز کو خصوصی یونیفارم میں تعینات کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔
سیکیورٹی پلان کا دورانیہ
ذرائع کے مطابق، رینجرز، ایف سی اور پولیس کی اس مشترکہ تعیناتی اور خصوصی سیکیورٹی پلان کو 8جون سے 21جون 2026تک نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9جون کو دیے گئے لانگ مارچ کی کال کے پیش نظر، 9 جون سے قبل ہی تمام انتظامی اور سیکیورٹی اقدامات کو انتہائی سخت اور ہائی الرٹ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عوامی جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔