پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سکیورٹی کی حالیہ سنگین صورتحال اور راولاکوٹ میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کشمیر کے موجودہ سیاسی بحران کو آئینی اور پارلیمانی فریم ورک کے اندر حل کرنے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف سے ہنگامی ملاقات کا اعلان کیا ہے۔
راولاکوٹ میں حملہ
کشمیر پولیس کے سربراہ لیاقت علی ملک کے دفتر سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز راولاکوٹ میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی ‘جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی’ کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔
مظاہرین نے سی ایم ایچ راولاکوٹ پر دھاوا بولا اور عسکری ہسپتال کے اندر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکار جاں بحق اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔ آئی جی کشمیر نے اس واقعے کو کھلی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عوامی امن اور شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ہنگامی اجلاس
اس ابھرتی ہوئی تشویشناک صورتحال پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی مرکزی صدر فریال تالپور نے اسلام آباد کے زرداری ہاؤس میں پی پی پی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں اراکینِ اسمبلی نے قیادت کو حالیہ پیش رفت اور عوامی مطالبات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی بنیاد ہی مسئلہ کشمیر پر رکھی گئی تھی اور خطے کا امن ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام سیاسی معاملات اور تنازعات کو طاقت کے بجائے قانون سازی، مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، اور اسی سلسلے میں وہ جلد وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔
سکیورٹی کریک ڈاؤن
دوسری جانب وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات پر پہلے ہی عمل درآمد ہو چکا ہے اور بقیہ مسائل بھی بات چیت سے حل کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم، راولاکوٹ حملے کے بعد آزاد کشمیر حکومت نے انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ مظفرآباد، راولاکوٹ اور دیگر حساس علاقوں میں پیراملٹری فورسز اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کر کے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق، فی الوقت کاروباری سرگرمیاں اور ٹریفک کی روانگی جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے، لیکن کسی بھی مزید بدامنی کو روکنے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ کریک ڈاؤن جاری ہے۔