سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں پنجشیر کی دشوار گزار بلندیوں پر جنگجوؤں کی نقل و حرکت اور سرگرم موجودگی کو دیکھا جا سکتا ہے، جو خطے میں طالبان کے انتظامی کنٹرول کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی مناظر اور رپورٹس میں پنجشیر کی دشوار گزار بلندیوں پر جنگجوؤں کی نقل و حرکت اور سرگرم موجودگی کو دیکھا جا سکتا ہے، جو خطے میں طالبان کے انتظامی کنٹرول کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہی ہے۔
بدخشاں سے پنجشیر تک
تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کے شمالی علاقوں میں صورتِ حال تیزی سے بدل رہی ہے۔ پہلے صوبہ بدخشاں میں فائرنگ، شدید جھڑپوں اور بمباری کے واقعات میں اچانک اضافہ ہوا اور اب پنجشیر جیسے حساس اور تاریخی مزاحمتی مرکز میں مسلح تحاریک کا دوبارہ ابھرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مزاحمت کا دائرہ ایک علاقے تک محدود نہیں رہا۔
شمالی صوبوں میں یکے بعد دیگرے ابھرنے والی یہ عسکری سرگرمیاں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ افغانستان کے مختلف حصوں میں عوام اور مقامی گروہ طالبان کی پالیسیوں کے خلاف صف آرا ہو رہے ہیں۔
پنجشیر اور بدخشاں کی وادیوں میں مسلح جھڑپوں اور گوریلا کارروائیوں کا تیز ہونا طالبان حکومت کی جانب سے ملک بھر میں کامل امن، استحکام اور مکمل علاقائی تسلط کے بار بار کیے جانے والے دعووں کی قلعی کھول رہا ہے۔
طالبان مخالف فورسز کی ان کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سخت سکیورٹی اقدامات اور فوجی موجودگی کے باوجود شمالی افغانستان میں پائیدار خاموشی قائم نہیں کی جا سکی، اور طالبان انتظامیہ کو ملک بھر میں ایک وسیع اور منظم چیلنج کا سامنا ہے۔
دیکھیے: بدخشاں میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت شدت اختیار کر گئی