لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

بدخشاں کے بعد پنجشیر میں بھی مسلح مزاحمت تیز، طالبان رجیم کو سخت چیلنج

طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں شدت آتی جا رہی ہے۔ بدخشاں کے بعد اب پنجشیر میں بھی قومی مزاحمتی محاذ کے گوریلا گرم محاذِ جنگ میں اتر آئے ہیں۔
بدخشان کے بعد پنجشیر میں بھی مسلح مزاحمت تیز، طالبان رجیم کو سخت چیلنج

طالبان مخالف تحریکوں کا دائرہ پھیلنے لگا ہے۔ بدخشاں میں جھڑپوں کے بعد پنجشیر کی بلندیوں پر قومی مزاحمتی محاذ کے جنگجوؤں کی سرگرم موجودگی سامنے آئی ہے۔

July 25, 2026

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں پنجشیر کی دشوار گزار بلندیوں پر جنگجوؤں کی نقل و حرکت اور سرگرم موجودگی کو دیکھا جا سکتا ہے، جو خطے میں طالبان کے انتظامی کنٹرول کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی مناظر اور رپورٹس میں پنجشیر کی دشوار گزار بلندیوں پر جنگجوؤں کی نقل و حرکت اور سرگرم موجودگی کو دیکھا جا سکتا ہے، جو خطے میں طالبان کے انتظامی کنٹرول کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہی ہے۔

بدخشاں سے پنجشیر تک

تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کے شمالی علاقوں میں صورتِ حال تیزی سے بدل رہی ہے۔ پہلے صوبہ بدخشاں میں فائرنگ، شدید جھڑپوں اور بمباری کے واقعات میں اچانک اضافہ ہوا اور اب پنجشیر جیسے حساس اور تاریخی مزاحمتی مرکز میں مسلح تحاریک کا دوبارہ ابھرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مزاحمت کا دائرہ ایک علاقے تک محدود نہیں رہا۔

شمالی صوبوں میں یکے بعد دیگرے ابھرنے والی یہ عسکری سرگرمیاں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ افغانستان کے مختلف حصوں میں عوام اور مقامی گروہ طالبان کی پالیسیوں کے خلاف صف آرا ہو رہے ہیں۔

پنجشیر اور بدخشاں کی وادیوں میں مسلح جھڑپوں اور گوریلا کارروائیوں کا تیز ہونا طالبان حکومت کی جانب سے ملک بھر میں کامل امن، استحکام اور مکمل علاقائی تسلط کے بار بار کیے جانے والے دعووں کی قلعی کھول رہا ہے۔

طالبان مخالف فورسز کی ان کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سخت سکیورٹی اقدامات اور فوجی موجودگی کے باوجود شمالی افغانستان میں پائیدار خاموشی قائم نہیں کی جا سکی، اور طالبان انتظامیہ کو ملک بھر میں ایک وسیع اور منظم چیلنج کا سامنا ہے۔

دیکھیے: بدخشاں میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت شدت اختیار کر گئی

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *