حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے سعودی شہر جازان پر میزائل حملہ کیا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ سعودی سول ڈیفنس نے بعد میں خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا۔

July 25, 2026

طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں شدت آتی جا رہی ہے۔ بدخشاں کے بعد اب پنجشیر میں بھی قومی مزاحمتی محاذ کے گوریلا گرم محاذِ جنگ میں اتر آئے ہیں۔

July 25, 2026

بدخشاں میں شدید فائرنگ اور ہیلی کاپٹروں کی سرگرمیوں میں اضافہ، طالبان مخالف مزاحمتی تحریکیں رجیم کے کنٹرول کو مسلسل چیلنج کر رہی ہیں۔

July 25, 2026

بدخشاں میں قندھار کی مرکزی قیادت کے سخت رویے، معدنی وسائل پر تسلط اور انتظامی ناہمواری کے باعث عوامی بے چینی ایک شدید اور منظم مسلح مزاحمت کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

July 25, 2026

خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں مشترکہ چیک پوسٹ پر گاڑی کے ذریعے کیے گئے خودکش حملے کے تینوں حملہ آور افغان شہری نکلے۔

July 25, 2026

بھارت میں طلبہ تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج رنگ لے آیا، وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا جسے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے قبول کر لیا۔

July 25, 2026

بدخشاں کے بعد پنجشیر میں بھی مسلح مزاحمت تیز، طالبان رجیم کو سخت چیلنج

طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں شدت آتی جا رہی ہے۔ بدخشاں کے بعد اب پنجشیر میں بھی قومی مزاحمتی محاذ کے گوریلا گرم محاذِ جنگ میں اتر آئے ہیں۔
بدخشان کے بعد پنجشیر میں بھی مسلح مزاحمت تیز، طالبان رجیم کو سخت چیلنج

طالبان مخالف تحریکوں کا دائرہ پھیلنے لگا ہے۔ بدخشاں میں جھڑپوں کے بعد پنجشیر کی بلندیوں پر قومی مزاحمتی محاذ کے جنگجوؤں کی سرگرم موجودگی سامنے آئی ہے۔

July 25, 2026

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں پنجشیر کی دشوار گزار بلندیوں پر جنگجوؤں کی نقل و حرکت اور سرگرم موجودگی کو دیکھا جا سکتا ہے، جو خطے میں طالبان کے انتظامی کنٹرول کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی مناظر اور رپورٹس میں پنجشیر کی دشوار گزار بلندیوں پر جنگجوؤں کی نقل و حرکت اور سرگرم موجودگی کو دیکھا جا سکتا ہے، جو خطے میں طالبان کے انتظامی کنٹرول کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہی ہے۔

بدخشاں سے پنجشیر تک

تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کے شمالی علاقوں میں صورتِ حال تیزی سے بدل رہی ہے۔ پہلے صوبہ بدخشاں میں فائرنگ، شدید جھڑپوں اور بمباری کے واقعات میں اچانک اضافہ ہوا اور اب پنجشیر جیسے حساس اور تاریخی مزاحمتی مرکز میں مسلح تحاریک کا دوبارہ ابھرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مزاحمت کا دائرہ ایک علاقے تک محدود نہیں رہا۔

شمالی صوبوں میں یکے بعد دیگرے ابھرنے والی یہ عسکری سرگرمیاں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ افغانستان کے مختلف حصوں میں عوام اور مقامی گروہ طالبان کی پالیسیوں کے خلاف صف آرا ہو رہے ہیں۔

پنجشیر اور بدخشاں کی وادیوں میں مسلح جھڑپوں اور گوریلا کارروائیوں کا تیز ہونا طالبان حکومت کی جانب سے ملک بھر میں کامل امن، استحکام اور مکمل علاقائی تسلط کے بار بار کیے جانے والے دعووں کی قلعی کھول رہا ہے۔

طالبان مخالف فورسز کی ان کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سخت سکیورٹی اقدامات اور فوجی موجودگی کے باوجود شمالی افغانستان میں پائیدار خاموشی قائم نہیں کی جا سکی، اور طالبان انتظامیہ کو ملک بھر میں ایک وسیع اور منظم چیلنج کا سامنا ہے۔

دیکھیے: بدخشاں میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت شدت اختیار کر گئی

متعلقہ مضامین

حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے سعودی شہر جازان پر میزائل حملہ کیا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ سعودی سول ڈیفنس نے بعد میں خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا۔

July 25, 2026

بدخشاں میں شدید فائرنگ اور ہیلی کاپٹروں کی سرگرمیوں میں اضافہ، طالبان مخالف مزاحمتی تحریکیں رجیم کے کنٹرول کو مسلسل چیلنج کر رہی ہیں۔

July 25, 2026

بدخشاں میں قندھار کی مرکزی قیادت کے سخت رویے، معدنی وسائل پر تسلط اور انتظامی ناہمواری کے باعث عوامی بے چینی ایک شدید اور منظم مسلح مزاحمت کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

July 25, 2026

خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں مشترکہ چیک پوسٹ پر گاڑی کے ذریعے کیے گئے خودکش حملے کے تینوں حملہ آور افغان شہری نکلے۔

July 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *