مظفر آباد: آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے علاقے چہلہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انٹیلی جنس بنیادوں پر ایک انتہائی کامیاب اور ٹارگٹڈ آپریشن کرتے ہوئے دشمن خفیہ ایجنسی را اور فتنۃ الخوارج کے نیٹ ورک سے منسلک 5 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کاروائی کے ذریعے آزاد کشمیر میں بھارتی ایما پر بدامنی اور انتشار پھیلانے کی ایک بڑی سازش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور دیگر جدید مواصلاتی آلات برآمد ہوئے ہیں، جن کے ابتدائی تجزیے سے مشکوک روابط اور حساس نوعیت کا ڈیجیٹل مواد سامنے آیا ہے۔
دورانِ تفتیش ایک ملزم کی نشاندہی پر سکیورٹی فورسز نے اسلحے کا ایک بڑا ذخیرہ بھی برآمد کیا ہے، جس میں 7 خودکار ہتھیار، متعدد دستی بم (گرینیڈز) اور دیگر جنگی سامان شامل ہے۔ اس کے علاوہ ملزمان کے ٹھکانے سے حساس مقامات و تنصیبات کے نقشے اور مبینہ حملوں کے منصوبے بھی برآمد ہوئے ہیں، جنہیں قبضے میں لے کر تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
ہوشربا انکشافات
اس آپریشن کے ساتھ ہی افغانستان میں فتنۃ الخوارج اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے سرگرم خارجی شہزاد کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز بھی منظرِ عام پر آئی ہیں، جس نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور دہشت گردوں کے گٹھ جوڑ کو پوری طرح عیاں کر دیا ہے۔
ویڈیو میں خارجی شہزاد کو افغانستان سے بیٹھ کر ایک تحریر شدہ بھارتی بیانیہ پڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس میں وہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو ریاستِ پاکستان کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کی ہدایات دے رہا ہے۔
اس کے علاوہ خارجی شہزاد کی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ایک رہنما کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو (آڈیو لیک) بھی سامنے آئی ہے۔ اس گفتگو میں خارجی شہزاد آزاد کشمیر میں الیکشن ملتوی کرانے، شرپسندی کے لیے کارکنوں کو اکٹھا کرنے اور طاقت و عسکریت پسندی کے ذریعے نام نہاد عسکری فورس بحال کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ آڈیو میں دونوں رہنماؤں کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ خطے میں انتخابات کے انعقاد کی ہر طرح سے مخالفت کریں گے اور انہیں کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔
مبصرین کا تجزیہ
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ خارجی شہزاد کی لڑکھڑاتی آواز میں بھارتی تحریر کردہ بیانیے کو پڑھنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آزاد کشمیر میں حالیہ احتجاج کی آڑ میں بدامنی کے تمام تانے بانے نئی دہلی سے ہلائے جا رہے تھے۔
ماہرین کے مطابق فتنۃ الخوارج جیسے اعلانیہ دہشت گرد گروہ کی جانب سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی پشت پناہی نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس کمیٹی پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد کرنے کا فیصلہ بالکل درست تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ مواد کا فرانزک اور تکنیکی تجزیہ جاری ہے تاکہ ملزمان کے ممکنہ سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع اور ان کے وسیع تر نیٹ ورک کی چھان بین کی جا سکے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واضح کیا ہے کہ قومی مفادات، ریاستی سلامتی اور امن و امان کے خلاف کسی بھی مذموم سرگرمی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سکیورٹی اداروں نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے آس پاس کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔
دیکھیے: راولاکوٹ سی ایم ایچ پر کالعدم ایکشن کمیٹی کا حملہ، 4 اہلکار جاں بحق، کریک ڈاؤن جاری