لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

طالبان گورنر سے ملاقات کے بعد 70 عمائدین لاپتا، صوبہ غور میں امن و امان کی صورتحال سنگین

افغانستان کے صوبہ غور میں طالبان گورنر کی دعوت پر مذاکرات کے لیے جانے والے 70 قبائلی عمائدین پراسرار طور پر لاپتا ہو گئے ہیں۔
افغانستان کے صوبہ غور میں طالبان گورنر کی دعوت پر مذاکرات کے لیے جانے والے 70 قبائلی عمائدین پراسرار طور پر لاپتا ہو گئے ہیں۔

افغان صوبے غور کے ضلع تیورہ کے 70 قبائلی بزرگ فیروز کوہ پہنچنے کے بعد لاپتا؛ اہل خانہ نے طالبان کی جانب سے حراست میں لیے جانے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

June 16, 2026

افغانستان کے صوبہ غور سے تشویشناک اطلاعات سامنے آئی ہیں جہاں ضلع تیورہ سے تعلق رکھنے والے تقریباً 70 قبائلی عمائدین اور معززین دارالحکومت روانگی کے بعد سے لاپتا ہو گئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان بزرگوں کے بارے میں تاحال کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ وفد 2 روز قبل صوبہ غور کے طالبان گورنر حیات اللہ مہاجر کی خصوصی دعوت پر ضلع تیورہ کے گاؤں ‘زربید’ سے شہر فیروز کوہ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اس ملاقات کا مقصد علاقے میں حالیہ کشیدگی اور دیگر اہم واقعات پر بات چیت کرنا تھا۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ وفد کی صوبائی دارالحکومت آمد کے فوراً بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی اور ان کا اپنے اہلِ خانہ و مقامی لوگوں سے ہر قسم کا رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔

اس صورتِ حال نے لاپتا افراد کے خاندانوں اور مقامی آبادی میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ بعض مقامی رہائشیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان بزرگوں کو طالبان حکام نے شہر پہنچتے ہی حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر قید کر دیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے پیاروں کی خیریت کے بارے میں فوری آگاہ کیا جائے اور انہیں رابطے کی اجازت دی جائے۔

دوسری جانب سیاسی مبصرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ طالبان کی اس پالیسی کا تسلسل معلوم ہوتا ہے جو انہوں نے گزشتہ 5 برسوں سے اپنے مخالفین اور آزاد آوازوں کو دبانے کے لیے اختیار کر رکھی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان پر مسلسل یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ اپنے مخالفین کو گرفتار کرنے، قید میں رکھنے اور بعض صورتوں میں ماورائے عدالت قتل جیسے اقدامات میں ملوث ہیں۔ قبائلی عمائدین کی اس بڑی تعداد میں گمشدگی نے طالبان کے مذاکراتی دعووں پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔


دیکھیے:
افغان سرزمین سے دہشت گردی خطے کے لیے سنگین خطرہ ہے، پاکستان

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *