برطانوی وزیر ہیمش فالکنر نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر زور دیتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی کے لیے برطانوی تعاون کی پیشکش کی ہے۔

June 16, 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدے کے سفارتی مراحل میں پاکستان نے قطر کے ہمراہ کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

June 16, 2026

اورکزئی میں پولیس نے خیبر سے داخل ہونے والے کالعدم ٹی ٹی پی کے ایک شدت پسند کو سہولت کار سمیت گرفتار کر لیا۔

June 16, 2026

بنوں میں قبائلی امن کمیٹی کی مہلت ختم ہونے کے بعد پولیس اور امن کمیٹی کے ساتھ جھڑپ میں کالعدم ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈر محمد فاتح عرف کاکا وزیر اپنے بیٹے اور بھتیجے سمیت ہلاک ہو گیا ہے۔

June 16, 2026

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کا مسنگ پرسنز ڈراما ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے، جہاں جبری گمشدہ قرار دیا جانے والا مبینہ دہشت گرد عادل آواران میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں ہلاک پایا گیا۔

June 16, 2026

سی ٹی ڈی نے اٹک اور کراچی میں کاروائیاں کرتے ہوئے 5 دہشت گردوں کو ہلاک اور کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 5 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ بھاری اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔

June 16, 2026

افغان سرزمین سے دہشت گردی خطے کے لیے سنگین خطرہ ہے، پاکستان

سلامتی کونسل میں پاکستانی مندوب نے افغانستان کے لیے یو این اے ایم اے کے مینڈیٹ کی حمایت کرتے ہوئے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی اور ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔
سلامتی کونسل میں پاکستانی مندوب نے افغانستان کے لیے یو این اے ایم اے کے مینڈیٹ کی حمایت کرتے ہوئے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی اور ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

سلامتی کونسل میں یو این اے ایم اے کے مینڈیٹ میں توسیع کی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان نے افغان سرزمین پر دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور سرحد پار حملوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

June 16, 2026

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کے لیے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کے مینڈیٹ میں ایک سال کی توسیع کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ووٹ کی وضاحت کرتے ہوئے چین کی سفارتی قیادت کو سراہا جس نے تمام ارکان کے مابین اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان نے قرارداد کی توثیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ افغانستان اس وقت گوناگوں چیلنجز سے نبردآزما ہے اور پاکستان وہاں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے اقوامِ متحدہ کے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔

پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں افغانستان سے جنم لینے والے دہشت گردی کے خطرات کو سب سے سنگین چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی یہ قرارداد بھی افغان سرزمین پر دہشت گرد گروپوں کی موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے جو بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہیں۔

سفیر عاصم افتخار نے سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ افغان طالبان کے اندر کچھ عناصر فعال طور پر متعدد دہشت گرد گروپوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ماجد بریگیڈ، داعش خراسان، القاعدہ اور ای ٹی آئی ایم جیسی تنظیمیں افغانستان میں آزادی کے ساتھ کام کر رہی ہیں، جو پاکستانی شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہم ڈھانچے پر سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں۔

پاکستان نے زور دیا کہ نئے مینڈیٹ کے تحت یو این اے ایم اے کو افغانستان میں اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے افراد اور مہاجرین کی واپسی اور آباد کاری کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے میں مدد کرنی چاہیے۔ سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ مشن کو چاہیے کہ وہ افغانستان کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی، انسانی حقوق اور ہمہ گیر حکومت کے قیام جیسے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ اس کے علاوہ، افغانستان اور خطے میں چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور ان کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے بھی کوششیں تیز کی جائیں۔

پاکستانی مندوب نے اقوامِ متحدہ کے مشن کی رپورٹنگ کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹنگ حقائق اور شواہد پر مبنی ہونی چاہیے، خاص طور پر ان علاقوں کے حوالے سے جہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں اور جہاں اقوامِ متحدہ کے عملے کی رسائی ممکن نہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی جانب سے پھیلائی جانے والی من گھڑت معلومات اور طالبان کے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یو این اے ایم اے اپنی رپورٹنگ میں غیر جانبدار رہے اور افغانستان کے پڑوسی ممالک کے جائز سیکیورٹی تحفظات کو ملحوظِ خاطر رکھے۔

اپنے خطاب کے آخر میں پاکستانی مندوب نے افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کی تقرری میں غیر معمولی تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ گزشتہ سال سے خالی اس منصب کو فوری طور پر پُر کیا جائے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ 31 مارچ 2027 تک مکمل ہونے والا اسٹریٹجک جائزہ مشن کے مینڈیٹ کو مزید مؤثر بنائے گا، تاکہ افغانستان ایک ایسا ملک بن سکے جو اپنے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن سے رہ سکے۔

متعلقہ مضامین

برطانوی وزیر ہیمش فالکنر نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر زور دیتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی کے لیے برطانوی تعاون کی پیشکش کی ہے۔

June 16, 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدے کے سفارتی مراحل میں پاکستان نے قطر کے ہمراہ کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

June 16, 2026

اورکزئی میں پولیس نے خیبر سے داخل ہونے والے کالعدم ٹی ٹی پی کے ایک شدت پسند کو سہولت کار سمیت گرفتار کر لیا۔

June 16, 2026

بنوں میں قبائلی امن کمیٹی کی مہلت ختم ہونے کے بعد پولیس اور امن کمیٹی کے ساتھ جھڑپ میں کالعدم ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈر محمد فاتح عرف کاکا وزیر اپنے بیٹے اور بھتیجے سمیت ہلاک ہو گیا ہے۔

June 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *