اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کے لیے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کے مینڈیٹ میں ایک سال کی توسیع کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ووٹ کی وضاحت کرتے ہوئے چین کی سفارتی قیادت کو سراہا جس نے تمام ارکان کے مابین اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان نے قرارداد کی توثیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ افغانستان اس وقت گوناگوں چیلنجز سے نبردآزما ہے اور پاکستان وہاں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے اقوامِ متحدہ کے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔
پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں افغانستان سے جنم لینے والے دہشت گردی کے خطرات کو سب سے سنگین چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی یہ قرارداد بھی افغان سرزمین پر دہشت گرد گروپوں کی موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے جو بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہیں۔
سفیر عاصم افتخار نے سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ افغان طالبان کے اندر کچھ عناصر فعال طور پر متعدد دہشت گرد گروپوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہے ہیں۔
Explanation of Vote by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad,
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) June 15, 2026
Permanent Representative of Pakistan to the UN,
At the UN Security Council on the Adoption of Resolution for the mandate renewal of UNAMA
(15thJune 2026)
*******
Madam President,
We commend China for its leadership role… pic.twitter.com/HDFmBAUHrK
انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ماجد بریگیڈ، داعش خراسان، القاعدہ اور ای ٹی آئی ایم جیسی تنظیمیں افغانستان میں آزادی کے ساتھ کام کر رہی ہیں، جو پاکستانی شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہم ڈھانچے پر سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں۔
پاکستان نے زور دیا کہ نئے مینڈیٹ کے تحت یو این اے ایم اے کو افغانستان میں اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے افراد اور مہاجرین کی واپسی اور آباد کاری کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے میں مدد کرنی چاہیے۔ سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ مشن کو چاہیے کہ وہ افغانستان کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی، انسانی حقوق اور ہمہ گیر حکومت کے قیام جیسے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ اس کے علاوہ، افغانستان اور خطے میں چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور ان کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے بھی کوششیں تیز کی جائیں۔
پاکستانی مندوب نے اقوامِ متحدہ کے مشن کی رپورٹنگ کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹنگ حقائق اور شواہد پر مبنی ہونی چاہیے، خاص طور پر ان علاقوں کے حوالے سے جہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں اور جہاں اقوامِ متحدہ کے عملے کی رسائی ممکن نہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی جانب سے پھیلائی جانے والی من گھڑت معلومات اور طالبان کے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یو این اے ایم اے اپنی رپورٹنگ میں غیر جانبدار رہے اور افغانستان کے پڑوسی ممالک کے جائز سیکیورٹی تحفظات کو ملحوظِ خاطر رکھے۔
اپنے خطاب کے آخر میں پاکستانی مندوب نے افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کی تقرری میں غیر معمولی تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ گزشتہ سال سے خالی اس منصب کو فوری طور پر پُر کیا جائے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ 31 مارچ 2027 تک مکمل ہونے والا اسٹریٹجک جائزہ مشن کے مینڈیٹ کو مزید مؤثر بنائے گا، تاکہ افغانستان ایک ایسا ملک بن سکے جو اپنے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن سے رہ سکے۔