افغانستان کے صوبہ غور سے تشویشناک اطلاعات سامنے آئی ہیں جہاں ضلع تیورہ سے تعلق رکھنے والے تقریباً 70 قبائلی عمائدین اور معززین دارالحکومت روانگی کے بعد سے لاپتا ہو گئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان بزرگوں کے بارے میں تاحال کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ وفد 2 روز قبل صوبہ غور کے طالبان گورنر حیات اللہ مہاجر کی خصوصی دعوت پر ضلع تیورہ کے گاؤں ‘زربید’ سے شہر فیروز کوہ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اس ملاقات کا مقصد علاقے میں حالیہ کشیدگی اور دیگر اہم واقعات پر بات چیت کرنا تھا۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ وفد کی صوبائی دارالحکومت آمد کے فوراً بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی اور ان کا اپنے اہلِ خانہ و مقامی لوگوں سے ہر قسم کا رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔
اس صورتِ حال نے لاپتا افراد کے خاندانوں اور مقامی آبادی میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ بعض مقامی رہائشیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان بزرگوں کو طالبان حکام نے شہر پہنچتے ہی حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر قید کر دیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے پیاروں کی خیریت کے بارے میں فوری آگاہ کیا جائے اور انہیں رابطے کی اجازت دی جائے۔
منابع محلی در ولایت غور از ناپدید شدن حدود ۷۰ تن از بزرگان قومی و مویسفیدان ولسوالی تیوره خبر میدهند که پس از سفر به مرکز این ولایت، سرنوشت آنان نامعلوم شده است.
— Paigah News خبرگزاری پایگاه (@paigahnews_af) June 15, 2026
به گفته منابع، این افراد دو روز پیش به دعوت حیاتالله مهاجر، والی طالبان در غور، برای گفتوگو پیرامون تنشها و… pic.twitter.com/b22ia4VEXI
دوسری جانب سیاسی مبصرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ طالبان کی اس پالیسی کا تسلسل معلوم ہوتا ہے جو انہوں نے گزشتہ 5 برسوں سے اپنے مخالفین اور آزاد آوازوں کو دبانے کے لیے اختیار کر رکھی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان پر مسلسل یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ اپنے مخالفین کو گرفتار کرنے، قید میں رکھنے اور بعض صورتوں میں ماورائے عدالت قتل جیسے اقدامات میں ملوث ہیں۔ قبائلی عمائدین کی اس بڑی تعداد میں گمشدگی نے طالبان کے مذاکراتی دعووں پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
دیکھیے: افغان سرزمین سے دہشت گردی خطے کے لیے سنگین خطرہ ہے، پاکستان