واشنگٹن: افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور ان کی سرگرمیوں کے باعث خطے میں سکیورٹی کی صورتِ حال انتہائی تشویش ناک شکل اختیار کر گئی ہے۔ جریدے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، افغانستان کے دوبارہ دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے پڑوسی ملک پاکستان پر دہشت گردی کا دباؤ اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔
نئے خطرات کا انتباہ
امریکی جریدے نے اپنی رپورٹ میں سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور اس کے عالمی اتحادیوں کے خلاف کوئی بھی بڑا دہشت گردانہ منصوبہ مستقبل میں دوبارہ افغانستان کی سرزمین سے ہی جنم لے سکتا ہے۔
رپورٹ میں روسی حکام کے اس حالیہ دعوے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس وقت افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہ فعال ہیں اور اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان پر منفی اثرات
رپورٹ میں ملکی اور علاقائی سلامتی کے تناظر میں کہا گیا ہے کہ سال 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے عجلت پسندی میں کیے گئے انخلاء کے براہِ راست اور انتہائی منفی نتائج امریکہ کے ایک اہم علاقائی شراکت دار پاکستان پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں کی وجہ سے پاکستان کو سرحد پار سے مسلسل سکیورٹی چیلنجز اور حملوں کا سامنا ہے۔
دوحہ معاہدے پر نظرثانی
امریکی جریدے نے موجودہ حالات کے پیشِ نظر واشنگٹن انتظامیہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ افغان طالبان کے ساتھ کیے گئے دوحہ معاہدے پر دوبارہ غور کرے۔ رپورٹ کے مطابق، افغان طالبان عالمی برادری اور پڑوسی ممالک کے ساتھ کیے گئے اپنے سلامتی کے وعدے اور معاہدے کی شقیں پوری کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، اس لیے اس معاہدے پر نظرثانی اب ناگزیر ہو چکی ہے۔
دیکھیے: سی ٹی ڈی کی خیبرپختونخوا میں بڑی کاروائیاں، فتنہ الخوارج کے 6 دہشت گرد ہلاک