تیراہ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کی گئی فضائی کارروائی کے بعد فتنہ الخوارج اور اس سے منسلک نیٹ ورکس نے عوام میں اشتعال پھیلانے کے لیے پراپیگنڈا مہم شروع کر دی ہے۔ فتنہ الخوارج کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آپریشن میں ایک دینی مدرسے کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ذرائع کے مطابق یہ دعوے محض عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی ناکام کوشش ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج اپنے خلاف ہونے والے مؤثر آپریشنز کے بعد ہمیشہ مذہبی جذبات اور علامات کا سہارا لیتی ہے۔ دہشت گرد عناصر اکثر دینی اداروں اور عمارات کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور کارروائی کے بعد بے بنیاد ویڈیوز اور بیانیے پھیلا کر ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جو عناصر خود مساجد، عبادت گاہوں اور بے گناہ مسلمانوں پر حملوں میں ملوث رہے ہیں، وہ اسلام یا دینی تعلیمات کے محافظ نہیں ہو سکتے۔ فتنہ الخوارج کی جانب سے سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع سے بکھارے جانے والے غیر تصدیق شدہ مواد کا مقصد عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کو مجروح کرنا اور اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔
سکیورٹی فورسز کی تمام تر کارروائیاں صرف اور صرف دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے کی جاتی ہیں، جن کا مقصد ملک میں امن و امان کا قیام ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیمیوں کے جذباتی اور گمراہ کن پراپیگنڈے کے بجائے صرف موثق اور تصدیق شدہ حقائق پر اعتماد کریں۔
دیکھیے: لکی مروت میں خوارج کو بڑا دھچکا، آپریشن 11 گرج میں اہم کمانڈرز ہلاک