کرم سیکٹر میں پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پاکستانی فورسز نے مختلف چوکیوں سے جوابی کارروائی کی۔

September 22, 2026

آپریشن شعبان 2 کے تحت بلوچستان کے ساران تنگی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک اور 9 مشتبہ افراد گرفتار ہوگئے۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں آئینی مشینری کی ناکامی، امن و امان کے بگاڑ اور سرکاری وسائل کے ضیاع پر وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت انتظامی کنٹرول سنبھال سکتی ہے۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں بدامنی اور شہداء کے جنازوں سے صوبائی قیادت کی لاتعلقی پر سوالات اٹھ گئے۔

September 22, 2026

بنوں کے شہریوں نے خطے کو الگ صوبہ بنانے اور بنوں کو ہی صدر مقام کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور اراکین اسمبلی پر احتجاج میں عوامی لاتعلقی کے بعد خود ساختہ گمشدگی اور اغوا کے ڈرامے رچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

September 22, 2026

پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے تاریخی معاہدے پر دستخط، آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ

امریکہ اور ایران نے کشیدگی ختم کرنے کے لیے تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو فوری کھولا جائے گا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان 'اسلام آباد مفاہمتی یادداشت' پر دستخط

پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دونوں صدور کے دستخط کے بعد آبنائے ہرمز بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

June 18, 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری شدید عسکری و سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق 14 نکات پر مشتمل ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔

پاکستان کی ثالثی

اس تاریخی سفارتی کامیابی کا باضابطہ اعلان وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ واشنگٹن اور تہران نے تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کیا ہے، جس کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھول دے گا جبکہ امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرے گا۔

پاکستان نے اس معاہدے کی بطور ثالث توثیق کی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ معاہدے کی کاپی میڈیا کے لیے جاری کر دی ہے۔ عالمی سفارت کاری کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ دو ملکوں کے درمیان اتنے بڑے مہر بند معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کیے گئے ہیں۔

ورسائی محل میں دستخط

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے تاریخی ورسائی محل میں منعقدہ ایک پروقار عشائیے کے دوران فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی موجودگی میں معاہدے کی ہارڈ کاپی پر بھی باضابطہ دستخط کر دیے ہیں، جس کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس دستاویز پر ورچوئل دستخط کر چکے تھے، جبکہ ایران کی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے تہران سے دستخط کیے۔

منجمد فنڈز کی بحالی

جی 7 سربراہی اجلاس کے اختتام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر ایران مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے مختلف پابندیوں کے باعث منجمد کیے گئے تقریباً 300 ارب ڈالر کے فنڈز تک رسائی دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے امریکی افواج کچھ عرصے تک خلیجی خطے میں موجود رہیں گی۔ انہوں نے مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے میں پاکستان اور قطر کے کلیدی اور پسِ پردہ کردار کو خصوصی طور پر سراہا۔

ایران کی وضاحت

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے معاہدے کے متن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے فوری طور پر تکنیکی مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے میزائل پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی اور نہ ہی ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر منتقل کیا جائے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں کشیدگی یا لبنان پر حملے برقرار رہے تو اسے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ معاہدے پر دستخط کے بعد اب جنیوا میں وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے، جبکہ سوئٹزرلینڈ میں جمعہ کو ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔

دیکھیے: امریکہ ایران امن معاہدہ: جے ڈی وینس کا پاکستان کے کلیدی سفارتی کردار کا اعتراف

متعلقہ مضامین

کرم سیکٹر میں پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پاکستانی فورسز نے مختلف چوکیوں سے جوابی کارروائی کی۔

September 22, 2026

آپریشن شعبان 2 کے تحت بلوچستان کے ساران تنگی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک اور 9 مشتبہ افراد گرفتار ہوگئے۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں آئینی مشینری کی ناکامی، امن و امان کے بگاڑ اور سرکاری وسائل کے ضیاع پر وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت انتظامی کنٹرول سنبھال سکتی ہے۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں بدامنی اور شہداء کے جنازوں سے صوبائی قیادت کی لاتعلقی پر سوالات اٹھ گئے۔

September 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *