امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری شدید عسکری و سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق 14 نکات پر مشتمل ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
پاکستان کی ثالثی
اس تاریخی سفارتی کامیابی کا باضابطہ اعلان وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ واشنگٹن اور تہران نے تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کیا ہے، جس کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھول دے گا جبکہ امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرے گا۔
پاکستان نے اس معاہدے کی بطور ثالث توثیق کی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ معاہدے کی کاپی میڈیا کے لیے جاری کر دی ہے۔ عالمی سفارت کاری کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ دو ملکوں کے درمیان اتنے بڑے مہر بند معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کیے گئے ہیں۔

ورسائی محل میں دستخط
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے تاریخی ورسائی محل میں منعقدہ ایک پروقار عشائیے کے دوران فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی موجودگی میں معاہدے کی ہارڈ کاپی پر بھی باضابطہ دستخط کر دیے ہیں، جس کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس دستاویز پر ورچوئل دستخط کر چکے تھے، جبکہ ایران کی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے تہران سے دستخط کیے۔
منجمد فنڈز کی بحالی
جی 7 سربراہی اجلاس کے اختتام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر ایران مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے مختلف پابندیوں کے باعث منجمد کیے گئے تقریباً 300 ارب ڈالر کے فنڈز تک رسائی دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے امریکی افواج کچھ عرصے تک خلیجی خطے میں موجود رہیں گی۔ انہوں نے مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے میں پاکستان اور قطر کے کلیدی اور پسِ پردہ کردار کو خصوصی طور پر سراہا۔
ایران کی وضاحت
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے معاہدے کے متن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے فوری طور پر تکنیکی مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے میزائل پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی اور نہ ہی ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر منتقل کیا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں کشیدگی یا لبنان پر حملے برقرار رہے تو اسے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ معاہدے پر دستخط کے بعد اب جنیوا میں وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے، جبکہ سوئٹزرلینڈ میں جمعہ کو ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔
دیکھیے: امریکہ ایران امن معاہدہ: جے ڈی وینس کا پاکستان کے کلیدی سفارتی کردار کا اعتراف