امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک اہم ترین سفارتی پیش رفت میں اعتراف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے سفارتی مراحل اور اس کے اجراء کے عمل میں پاکستان اور قطر نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت جمعہ کو جنیوا میں ہونے والی باضابطہ دستخطی تقریب کے موقع پر جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
معاہدے کے سفارتی مراحل
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تاحال منظر عام پر نہ آنے کی وجوہات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس تاخیر کا سبب کسی قسم کی رکاوٹ نہیں بلکہ طے شدہ سفارتی ضابطے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ سفارتی پروٹوکول اور مرحلہ وار اقدامات ہیں جن میں پاکستانی اور قطری فریق بھی مستقل طور پر شامل رہے ہیں۔
امریکی نائب صدر کے اس بیان کو سفارتی حلقوں میں واشنگٹن کی جانب سے اس بات کا واضح اعتراف قرار دیا جا رہا ہے کہ پاکستان کا کردار صرف امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز تک لانے تک محدود نہیں تھا، بلکہ معاہدے کے اعلان اور پیشکش کے پیچیدہ سفارتی عمل میں بھی اسلام آباد براہِ راست شریک رہا ہے۔
جنیوا تقریب
جے ڈی وینس نے مزید بتایا کہ معاہدے کی تفصیلات جمعہ کو جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی باضابطہ دستخطی تقریب کے موقع پر جاری کی جائیں گی، تاہم اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہیں تو اس سے قبل بھی اس کا متن منظر عام پر لا سکتے ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم شہباز شریف بھی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ اس تاریخی معاہدے کی باضابطہ تقریب جنیوا میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے اس پیش رفت کو کئی ماہ کے سنگین تنازع کے بعد خطے میں امن کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا تھا۔
عالمی پذیرائی اور علاقائی اہمیت
معاہدے کے مکمل متن میں فوجی کاروائیوں کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق آئندہ کے مذاکرات کا فریم ورک شامل ہے۔ دوسری جانب چین نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی کامیاب ثالثی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا ہے اور خطے میں بحری آمدورفت کی جلد بحالی پر زور دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جے ڈی وینس کا یہ بیان پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارتکاری کے لیے ایک غیر معمولی کامیابی ہے، کیونکہ اسلام آباد روایتی طور پر خود کو واشنگٹن، تہران، خلیجی ممالک اور بیجنگ کے درمیان ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار رابطہ کار کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔
امریکی قیادت کا یہ حالیہ اعتراف ثابت کرتا ہے کہ پاکستان اب مشرقِ وسطیٰ کے اس اہم ترین امن عمل کے سفارتی ڈھانچے کا ایک ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔
دیکھیے: امن معاہدے کا حتمی متن تیار، امن قائم کرنے کے اتنے قریب پہلے کبھی نہیں تھے: شہباز شریف