برازیل کے نامور صحافی اور معروف مصنف پیپے ایسکوبار نے ایک انتہائی سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے، جس کے مطابق اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے سوئٹزرلینڈ میں موجود پاکستان کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک مبینہ قاتلانہ حملے میں نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔
دعوے کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اہم ترین امن مذاکرات کے سلسلے میں موجود تھے، اور موساد کا اصل مقصد ان پر حملہ کر کے ان تاریخی مذاکرات کو سبوتاژ کرنا اور خطے کو ایک بار پھر وسیع تر جنگ کی آگ میں دھکیلنا تھا۔
پاکستانی انٹیلی جنس
پیپے ایسکوبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی عسکری انٹیلی جنس نے انتہائی چوکسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آرمی چیف کے خلاف اس مبینہ بین الاقوامی سازش اور قتل کے منصوبے کا وقت سے پہلے سراغ لگا لیا۔
Breaking:
— South Asia Index (@SouthAsiaIndex) June 24, 2026
Israeli Intelligence agency Mossad wanted to assassinate the Pakistan's military chief Asim Munir while he was in Switzerland for US-Iran talks.
— Mossad wanted to assassinate Pakistani military chief Asim Munir to derail US-Iran peace-talks and throw the region… pic.twitter.com/mWkgKrARNc
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس خطرناک انٹیلی جنس رپورٹ کے باوجود پاکستان نے دباؤ میں آنے کے بجائے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے یا طے شدہ ملاقاتوں کے شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی، بلکہ سفارتی و خفیہ ذرائع سے اسرائیل کو ایک انتہائی سخت اور براہِ راست پیغام پہنچایا۔
اسرائیل کو پیغام
دعوے کے مطابق پاکستان کی جانب سے تل ابیب کو بھیجے گئے پیغام میں انتہائی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ اگر آپ نے ہمارے وفد کو ہاتھ بھی لگایا تو ہم آپ کا نام و نشان مٹا دیں گے۔
اس پیغام میں کسی قسم کی لچک یا غلط تشریح کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی تھی، جس کے بعد پاکستانی عسکری قیادت کے اس دوٹوک اور جارحانہ موقف کے سامنے موساد اپنے مبینہ منصوبے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی۔