افغانستان کی سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس، عسکری تنصیبات اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف پاکستان کی جانب سے شروع کیا گیا آپریشن غضب للحق اب ایک نئے اور انتہائی مؤثر مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
اس آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو کامیابی سے نشانہ بنانے پر عالمی میڈیا اور بین الاقوامی تھنک ٹینکس کی جانب سے پاکستان کی عسکری حکمتِ عملی کو بھرپور انداز میں سراہا جا رہا ہے۔
دی ڈپلومیٹ رپورٹ
امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف پاکستان کی بہترین آپریشنل حکمتِ عملی کا اعتراف کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے دہشت گرد نیٹ ورکس اور سرحد پار موجود ان کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا انتہائی تنگ کر دیا ہے۔
افغانستان میں دہشتگرد نیٹ ورکس کیخلاف پاکستان کےآپریشن غضب للحق کی عالمی سطح پر پذیرائی
— PTV News (@PTVNewsOfficial) June 24, 2026
پاکستان افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہوں اورعسکری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنارہا ہے
معروف امریکی جریدے نے افغان طالبان اورفتنہ الخوارج کیخلاف پاکستان کی بہترین آپریشنل حکمت… pic.twitter.com/U1emmfpWXf
دی ڈپلومیٹ کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق کا بنیادی مقصد پاک افغان سرحدی علاقوں میں طویل عرصے سے سرگرم دہشت گردوں کی نیٹ ورکنگ اور رسد کو مکمل طور پر کمزور کرنا ہے۔
دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ
بین الاقوامی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسے خطرناک عسکری گروہ افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں کے لیے باقاعدہ استعمال کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کے اہم کمانڈر ملا محمد زئی اخوند قندھار میں فتنہ الخوارج کے تربیتی امور اور لاجسٹکس کی نگرانی کے ذمہ دار رہے ہیں، جو ان نیٹ ورکس کو ملنے والی پشت پناہی کا واضح ثبوت ہے۔
دفاعی ماہرین کا تجزیہ
عالمی تھنک ٹینکس نے آپریشن غضب للحق کو فتنہ الخوارج کی بیرونی پشت پناہی روکنے اور خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک انتہائی اہم اور ناگزیر حکمتِ عملی قرار دیا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات اور حملوں میں آنے والی نمایاں کمی اس بات کا واضح اور بین ثبوت ہے کہ آپریشن غضب للحق اپنے اہداف انتہائی کامیابی سے حاصل کر رہا ہے۔
دیکھیے: دہشت گردی کے واقعات میں 42 فیصد کمی: آپریشن غضب للحق کے ثمرات اور پائیدار امن کی جانب قدم