مظفر آباد: برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی جانب سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں خوراک اور ادویات کی مبینہ قلت سے متعلق نشر کی جانے والی حالیہ رپورٹ کا سنسنی خیز ڈراپ سین ہوا ہے، جس میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ یہ پوری کہانی من گھڑت اور پیسوں کے عوض تیار کردہ پراپیگنڈے کا حصہ تھی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں بی بی سی کو انٹرویو دینے والے مبینہ متاثرہ شخص نے خود منظرِ عام پر آ کر اعتراف کیا ہے کہ اسے پاکستان کے خلاف جھوٹا بیان دینے کے لیے بھاری رقم ادا کی گئی تھی۔
گزشتہ دنوں بی بی سی اردو نے شہزاد ملک اور نصیر چوہدری کی مرتب کردہ ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عباس پور کے رہائشی نوید نامی شخص (جسے اب ایک ٹرک ڈرائیور بتایا جا رہا ہے) کو سکیورٹی حکام نے راولپنڈی سے راشن اور ادویات لے جانے سے روکا اور سامان ضائع کرنے پر مجبور کیا۔
بڑا انکشاف:مجھے بی بی سی نے پیسے دیکر پاکستان خلاف بیان دلوایا جو کہا اُس پر شرمندہ ہوں،،بی بی سی کو انٹرویو دینے والا ٹرک ڈرائیور منظر عام پر آگیا،،،pic.twitter.com/7zYTLDnRSJ
— Niki Chiri♡ (@cutehunmee) June 26, 2026
تاہم، مذکورہ شخص نے اب اپنے نئے ویڈیو بیان میں اس من گھڑت کہانی کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا سابقہ انٹرویو مکمل طور پر اسکرپٹڈ تھا، جس کے لیے اسے بی بی سی کی جانب سے ادائیگی کی گئی تھی۔ اس نے اپنے کیے پر شدید شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے قوم سے معافی بھی مانگی ہے۔
ذرائع اور مقامی حکام کے مطابق بی بی سی کی یہ رپورٹ زمینی حقائق کے بالکل برعکس تھی، جس کا مقصد کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کو بنیاد بنا کر ریاست میں انسانی بحران کا جھوٹا تاثر پیدا کرنا اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنا تھا۔
مذکورہ شخص کے اعترافِ حقیقت کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ آزاد کشمیر میں کسی قسم کا کوئی انسانی یا طبی بحران موجود نہیں ہے اور بیرونی فنڈڈ میڈیا ہاؤسز خطے میں سنسنی خیزی پھیلانے کے لیے باقاعدہ پیڈ پراپیگنڈا مہم چلا رہے ہیں۔