"> آزاد کشمیر میں خوراک کی قلت کا دعویٰ؛ بی بی سی کی رپورٹ جھوٹی نکلی - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

آزاد کشمیر میں خوراک کی قلت کا دعویٰ؛ بی بی سی کی رپورٹ جھوٹی نکلی

آزاد کشمیر میں اشیا کی قلت سے متعلق بی بی سی کی رپورٹ جھوٹی نکلی؛ انٹرویو دینے والے شخص نے اعتراف کیا ہے کہ اسے پاکستان کے خلاف بیان دینے کے لیے بی بی سی نے پیسے دیے تھے۔
آزاد کشمیر میں اشیا کی قلت سے متعلق بی بی سی کی رپورٹ جھوٹی نکلی؛ انٹرویو دینے والے شخص نے اعتراف کیا ہے کہ اسے پاکستان کے خلاف بیان دینے کے لیے بی بی سی نے پیسے دیے تھے۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی پاکستان مخالف مہم کا بڑا بھانڈا پھوٹ گیا۔ آزاد کشمیر میں خوراک کی قلت کا دعویٰ کرنے والے شخص نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے بی بی سی سے رقم لے کر جھوٹا اور من گھڑت انٹرویو دیا تھا۔

June 27, 2026

مظفر آباد: برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی جانب سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں خوراک اور ادویات کی مبینہ قلت سے متعلق نشر کی جانے والی حالیہ رپورٹ کا سنسنی خیز ڈراپ سین ہوا ہے، جس میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ یہ پوری کہانی من گھڑت اور پیسوں کے عوض تیار کردہ پراپیگنڈے کا حصہ تھی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں بی بی سی کو انٹرویو دینے والے مبینہ متاثرہ شخص نے خود منظرِ عام پر آ کر اعتراف کیا ہے کہ اسے پاکستان کے خلاف جھوٹا بیان دینے کے لیے بھاری رقم ادا کی گئی تھی۔

گزشتہ دنوں بی بی سی اردو نے شہزاد ملک اور نصیر چوہدری کی مرتب کردہ ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عباس پور کے رہائشی نوید نامی شخص (جسے اب ایک ٹرک ڈرائیور بتایا جا رہا ہے) کو سکیورٹی حکام نے راولپنڈی سے راشن اور ادویات لے جانے سے روکا اور سامان ضائع کرنے پر مجبور کیا۔

https://twitter.com/cutehunmee/status/2070469591982342396?s=20

تاہم، مذکورہ شخص نے اب اپنے نئے ویڈیو بیان میں اس من گھڑت کہانی کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا سابقہ انٹرویو مکمل طور پر اسکرپٹڈ تھا، جس کے لیے اسے بی بی سی کی جانب سے ادائیگی کی گئی تھی۔ اس نے اپنے کیے پر شدید شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے قوم سے معافی بھی مانگی ہے۔

ذرائع اور مقامی حکام کے مطابق بی بی سی کی یہ رپورٹ زمینی حقائق کے بالکل برعکس تھی، جس کا مقصد کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کو بنیاد بنا کر ریاست میں انسانی بحران کا جھوٹا تاثر پیدا کرنا اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنا تھا۔

مذکورہ شخص کے اعترافِ حقیقت کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ آزاد کشمیر میں کسی قسم کا کوئی انسانی یا طبی بحران موجود نہیں ہے اور بیرونی فنڈڈ میڈیا ہاؤسز خطے میں سنسنی خیزی پھیلانے کے لیے باقاعدہ پیڈ پراپیگنڈا مہم چلا رہے ہیں۔

دیکھیے: بھارت: کاکروچ احتجاج میں پیلٹ گن استعمال کے شواہد سامنے آگئے، برطانوی میڈیا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *