اسلام آباد: وفاقی وزارت داخلہ نے ملک بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے 11 جولائی 2026 سے گرفتاریوں کا باقاعدہ حکم جاری کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں وزارت داخلہ کی جانب سے ایک باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، انسپکٹرز جنرل آف پولیس (آئی جیز) اور اسلام آباد انتظامیہ کو احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق 11 جولائی سے ایسے تمام افغان باشندوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جو کسی بھی مؤثر ویزا یا قانونی سفری دستاویزات کے بغیر پاکستان کے مختلف شہروں میں رہائش پذیر ہیں۔
وفاقی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے پلان (آئی ایف آر پی) کے تحت مربوط اور سخت اقدامات کرنے کا پابند کیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں غیر قانونی افغان باشندوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ 11 جولائی سے شروع ہونے والے اس کریک ڈاؤن کے بعد صوبائی انتظامیہ اور متعلقہ سکیورٹی اداروں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر گرفتاریوں اور دیگر اقدامات کی تفصیلی رپورٹ وفاقی وزارت داخلہ کو جمع کروائیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی بے دخلی کا یہ فیصلہ ملکی سکیورٹی کو مضبوط بنانے، سرحدی انتظام کو منظم کرنے اور داخلی امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کی پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے۔
دیکھیے: کراچی رینجرز کیمپ حملہ؛ گرفتار افغان خارجی کا افغانستان میں تربیت لینے کا اعتراف