پاکستان کے فضائی حملوں کے بعد طالبان نے عسکری سازوسامان مساجد اور اسکولوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے شہری تحفظ پر تشویش بڑھ گئی ہے۔

June 29, 2026

وفاقی حکومت نے ایرانی حکام کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد بلوچستان میں پاک-ایران سرحد پر واقع جلاگی بارڈر کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

June 29, 2026

پاکستانی فضائی حملوں کے بعد افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کو زمینی سطح پر بدلہ لینے کی دھمکی دے دی۔

June 29, 2026

پاکستان نے کراچی دہشت گرد حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے اور ایک دہشت گرد کی زندہ گرفتاری پر افغان ناظمِ الامور کو طلب کر کے سخت احتجاجی مراسلہ دے دیا ہے۔

June 29, 2026

گوگل میپس کی غلط رہنمائی سے راستہ بھٹک کر دشت بخند پہنچنے والے کراچی کے خاندان پر بی ایل اے کی فائرنگ، شوہر جاں بحق جبکہ خاتون شدید زخمی ہو گئیں۔

June 29, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب میں ہیلی کاپٹر حادثے میں 14 سعودی شہریوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

June 29, 2026

کراچی حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے پر پاکستان کا کابل سے سخت احتجاج

پاکستان نے کراچی دہشت گرد حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے اور ایک دہشت گرد کی زندہ گرفتاری پر افغان ناظمِ الامور کو طلب کر کے سخت احتجاجی مراسلہ دے دیا ہے۔
پاکستان نے کراچی دہشت گرد حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے اور ایک دہشت گرد کی زندہ گرفتاری پر افغان ناظمِ الامور کو طلب کر کے سخت احتجاجی مراسلہ دے دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق کراچی حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے پر اسلام آباد اور کابل میں افغان طالبان حکومت کو سخت احتجاجی مراسلہ پیش کر دیا گیا ہے۔

June 29, 2026

اسلام آباد: پاکستان نے کراچی میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے اور افغان سرزمین کے استعمال پر سخت ترین ایکشن لیتے ہوئے افغان طالبان حکومت سے شدید احتجاج کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق گزشتہ شب افغان ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا، جہاں کراچی دہشت گرد حملے کے حوالے سے انہیں باقاعدہ طور پر سخت احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) تھمایا گیا۔

کابل میں بھی احتجاجی مراسلہ

ترجمان دفتر خارجہ نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ سفارتی سطح پر اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے اٹھایا گیا ہے اور اسی نوعیت کا ایک اور احتجاجی مراسلہ کابل میں متعین پاکستان کے سفیر عبید الرحمٰن نظامانی نے بھی افغان وزارتِ خارجہ کے حکام کے سامنے پیش کیا ہے۔

دونوں دارالحکومتوں میں بیک وقت کیے جانے والے اس سفارتی اقدام کا مقصد افغان حکام کو پاکستان کی تشویش اور سیکیورٹی صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کرنا ہے۔

افغان شہریوں کا ملوث ہونا

وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ احتجاجی مراسلے ان ٹھوس شواہد اور حقیقت کی روشنی میں جاری کیے گئے ہیں کہ کراچی حملے کی کڑیاں براہِ راست افغانستان سے جڑتی ہیں۔ حملے کی کارروائی میں افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں، جن میں سے سیکیورٹی فورسز نے ایک حملہ آور کو موقع پر ہی زندہ گرفتار بھی کیا ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کا بین ثبوت ہے کہ افغان سرزمین اور وہاں کے شہری پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور کارروائیوں کے لیے مسلسل استعمال کیے جا رہے ہیں، جو دوطرفہ تعلقات اور خطے کے امن کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔

دیکھیے: کراچی رینجرز کیمپ حملہ؛ گرفتار افغان خارجی کا افغانستان میں تربیت لینے کا اعتراف

متعلقہ مضامین

پاکستان کے فضائی حملوں کے بعد طالبان نے عسکری سازوسامان مساجد اور اسکولوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے شہری تحفظ پر تشویش بڑھ گئی ہے۔

June 29, 2026

وفاقی حکومت نے ایرانی حکام کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد بلوچستان میں پاک-ایران سرحد پر واقع جلاگی بارڈر کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

June 29, 2026

پاکستانی فضائی حملوں کے بعد افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کو زمینی سطح پر بدلہ لینے کی دھمکی دے دی۔

June 29, 2026

گوگل میپس کی غلط رہنمائی سے راستہ بھٹک کر دشت بخند پہنچنے والے کراچی کے خاندان پر بی ایل اے کی فائرنگ، شوہر جاں بحق جبکہ خاتون شدید زخمی ہو گئیں۔

June 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *