افغانستان کی حدود سے پاکستان کے سرحدی اضلاع میں داخل ہونے والے افغان طالبان حکومت کے چار ابتدائی نوعیت کے ڈرون طیاروں کو پاکستان کے مضبوط فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔
تاہم ان تباہ شدہ ڈرون طیاروں کا ملبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے رہائشی علاقوں میں گرنے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم آٹھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے اس کارروائی کو آپریشن غضب للحق کے تحت دشمن کے مذموم عزائم کے خلاف ایک فوری اور فیصلہ کن جواب قرار دیا ہے۔
سکیورٹی فورسز کی تیاری
آئی ایس پی آر کے مطابق 30 جون کو افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی اور معاونت کے سلسلے میں یہ ڈرون بھیجے گئے تھے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اعلیٰ سطح کی آپریشنل تیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جدید دفاعی اقدامات کے ذریعے چاروں آنے والے دشمن ڈرونز کی فوری نشاندہی کی اور انہیں کامیابی سے ناکام بنا کر دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔
ملبہ گرنے سے جانی نقصان
ان تباہ شدہ ڈرونز کا ملبہ گرنے سے سرحدی علاقوں میں دو مختلف مقامات پر جانی نقصان رپورٹ ہوا ہے۔ پہلا واقعہ بلوچستان کے ضلع پشین میں پیش آیا، جہاں فضا میں تباہ کیے گئے ڈرون کا ملبہ افغان مہاجرین کے ایک کیمپ پر جا گرا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا اور وہاں مقیم تین افغان مہاجر شدید زخمی ہو گئے۔
دوسرا واقعہ خیبر پختونخوا کے علاقے حسن خیل کے مقام شمات خیل پستانی میں رپورٹ ہوا، جہاں ڈرون کا ملبہ ایک رہائشی مکان پر گرنے سے گھر میں موجود تین خواتین اور دو بچے زخمی ہو گئے۔
ہسپتال منتقلی
دونوں مقامات پر انتظامیہ اور امدادی ٹیموں نے فوری پہنچ کر زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا، جہاں زخمی خواتین اور بچوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے دونوں مقامات کو گھیرے میں لے کر ڈرون طیاروں کا ملبہ اپنے قبضہ میں لے لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
افغان عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش
حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت کی ایسی حرکات کا مقصد اپنے جابرانہ طرزِ حکومت کے باعث مشکلات کا شکار افغان عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹانا اور انہیں گمراہ کرنا ہے۔
پاکستان کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ افغان قیادت کا یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ خود افغان عوام کی مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بن رہا ہے، انہیں دہشت گردی کی سرپرستی ترک کرتے ہوئے پُرامن بقائے باہمی کے اصول پر عمل کرنا چاہیے۔
آپریشن غضب للحق
پاکستانی مسلح افواج نے عزم ظاہر کیا ہے کہ مادرِ وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔
پاکستان کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے یا عوام کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی سرحد پار مہم جوئی کا جواب آپریشن غضب للحق کے تحت اسی طرح فوری اور فیصلہ کن انداز میں دیا جاتا رہے گا، اور اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو افغان طالبان کو اس اشتعال انگیزی کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
دیکھیے: پاکستان میں ملوث افغان دہشت گردوں کے افغانستان میں جنازے، شواہد سامنے آ گئے