اقوامِ متحدہ کے معاونتی مشن برائے افغانستان (یوناما) کی جانب سے خطے میں دہشت گردی کے بین الاقوامی نیٹ ورکس کی سرگرمیوں پر مسلسل مجرمانہ چشم پوشی اختیار کی جا رہی ہے۔ عوامی شواہد کے مطابق افغانستان میں دہشت گردی کی ترویج اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ہلاک شدگان کے لیے کھلے عام تعزیتی اجتماعات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس پر عالمی ادارہ مکمل طور پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔
پس منظر
پاکستانی سکیورٹی فورسز جب بھی اپنی سرحدوں کی حفاظت اور بالخصوص افغان سرزمین پر چھپے ہوئے شرپسندوں کے خلاف جوابی کارروائی کرتی ہیں، تو یوناما اور دیگر عالمی ادارے فوری طور پر تشویش کا اظہار شروع کر دیتے ہیں۔
تاہم، جب یہی دہشت گرد گروہ افغان سرزمین اور یورپی ممالک میں عوامی سطح پر اپنی سرگرمیاں منظم کرتے ہیں، تو ان اداروں کی جانب سے کسی قسم کی تحقیقات یا مذمت سامنے نہیں آتی۔ یہ رویہ بین الاقوامی قوانین اور غیر جانبداری کے اصولوں کے یکسر منافی ہے۔
تعزیتی اجتماعات
حالیہ رپورٹس کے مطابق باجوڑ میں سکیورٹی آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے افغان نژاد ٹی ٹی پی دہشت گرد ملا صدام عرف حذیفہ کے لیے دو مختلف براعظموں میں عوامی سطح پر تعزیتی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔
پہلا اجتماع افغانستان کے صوبے کندز کی جامع مسجد خما کاری میں منعقد ہوا، جبکہ اسی دہشت گرد کی یاد میں دوسرا تعزیتی اجتماع فرانس کے شہر رینس کی مسجد التقویٰ میں منعقد کیا گیا۔ یہ روابط ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے بین الاقوامی نیٹ ورکس کس طرح سرحدوں سے ماورا ہو کر کھلے عام کام کر رہے ہیں۔
سفارتی حلقوں کے بیانات
سفارتی اور سکیورٹی ماہرین نے اس صورتِ حال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مطلوب دہشت گرد کے لیے دو مختلف ممالک میں تعزیتی اجتماعات کا انعقاد عالمی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یوناما کی یہ منتخب خاموشی غیر جانبداری نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتی ہے، کیونکہ جب تک ایسے نیٹ ورکس کی کھلی چھوٹ رہے گی، خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
مستقبل کے خدشات
افغانستان میں دہشت گردی کی ترویج اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو ملنے والی کھلی آزادی یہ ثابت کرتی ہے کہ یوناما اپنے بنیادی منشور پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔
اگر اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری نے ان دوہرے معیاروں کا سلسلہ بند نہ کیا اور دہشت گردوں کی پشت پناہی پر گرفت نہ کی، تو اس کے اثرات نہ صرف پاک افغان خطے بلکہ پور عالمی امن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
دیکھیے: دہشت گرد جہاں چھپیں گے نشانہ بنیں گے، یوناما طالبان کا ترجمان بن چکا ہے: پاکستان