پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ ایک روزہ بین الاقوامی سیمینار سے کلیدی خطاب کیا ہے۔ منعقدہ سیمینار میں معزز سفراء، اقوامِ متحدہ کے نمائندوں، بین الاقوامی اسکالرز اور میڈیا نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں وزیرِ خارجہ نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ پانی محض ایک قدرتی ذریعہ نہیں بلکہ انسانی وقار، معاشی ترقی اور غذائی تحفظ کی بنیاد ہے، جسے قوموں کے درمیان ٹکراؤ کے بجائے تعاون کا ذریعہ ہونا چاہیے۔
سندھ طاس معاہدے کا پس منظر
وزیرِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ 1960ء میں عالمی بینک کے تعاون سے پاکستان اور بھارت کے مابین طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ ایک انتہائی مربوط اور کامیاب ترین فریم ورک ہے۔ اس معاہدے کے تحت تین مشرقی دریا بھارت کو اور تین مغربی دریا پاکستان کو دیے گئے۔
PR No 157/2026
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 30, 2026
Address by Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 at International Seminar on IWT: An Instrument of Peace and Regional Stability at Jinnah Convention Centre.
🔗⬇️ pic.twitter.com/LXAbCvJlE4
انہوں نے بتایا کہ اس معاہدے کے نفاذ کے لیے پاکستان نے اپنے پورے آبپاشی اور واٹر مینجمنٹ کے نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کر کے ایک بہت بڑی قربانی دی تھی، کیونکہ مشرقی دریاؤں کا رخ بھارت کی جانب موڑ دیے جانے کے باعث پاکستان میں یہ دریا خشک ہو گئے تھے۔ تاہم پاکستان نے گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران جنگوں اور شدید ترین سیاسی کشیدگی کے باوجود اس بین الاقوامی معاہدے کا ہمیشہ احترام کیا۔
بھارت کا غیر قانونی فیصلہ
اسحاق ڈار نے بھارتی حکومت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے حالیہ فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ تو اس معاہدے کے اندر اور نہ ہی بین الاقوامی قانون میں کسی فریق کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اسے معطل یا ختم کر سکے۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ کورٹ آف آرٹبٹریشن (عالمی عدالتِ ثالثی) نے اپنے حالیہ فیصلے میں پاکستان کے مؤقف کی مکمل توثیق کی ہے کہ یہ معاہدہ ایک مستقل قانونی نظام قائم کرتا ہے جس میں یکطرفہ تبدیلی ممکن نہیں۔
پانی کے بہاؤ میں تبدیلیاں
خطاب کے دوران وزیرِ خارجہ نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اپریل 2025 سے پاکستان نے دریائے چناب اور دریائے جہلم کے پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اور اچانک تبدیلیاں نوٹ کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کی جانب سے پانی کے کنٹرول اور انفراسٹرکچر کی توسیع کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں جو کہ پاکستان کے لیے شدید تشویش کا باعث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات اس کوآپریٹو فریم ورک کو نقصان پہنچا رہے ہیں جس نے گزشتہ 60 سال سے خطے کے امن کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
سینیٹر اسحاق ڈار نے عالمی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر سیاسی مفادات کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کو اسی طرح نظرانداز کیا جاتا رہا تو عالمی قانونی نظام پر سے قوموں کا اعتماد اٹھ جائے گا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان 1 جنوری 2025ء سے 31 دسمبر 2026ء تک اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا منتخب رکن ہے، اور پاکستان ہمیشہ سے تنازعات کے پرامن اور کثیر الجہتی حل کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ مہم جوئی اور یکطرفہ اقدامات کے بجائے معاہدے کے اندر موجود طریقہ کار کے تحت ہی تمام تنازعات کو حل کرے۔