سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن (سی سی جی) کے صدر وکٹر گاؤ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی قوانین اور علاقائی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے، جس کا مکمل احترام اور تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے تجویز پیش کی ہے کہ چین کو بھی اس اہم معاہدے کا حصہ بنایا جائے تاکہ اسے ایک فعال سہ فریقی فریم ورک کی شکل دی جا سکے۔
اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چینی ماہر وکٹر گاؤ نے واضح کیا کہ گزشتہ سال جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کا پانی روکنے کا بیان دیا تھا، تو انہوں نے بھارتی ٹیلی وژن چینلز کو دیئے گئے انٹرویوز میں اس مؤقف کی کھل کر مخالفت کی تھی اور نئی دہلی کو اس خطرناک راستے پر نہ چلنے کا مشورہ دیا تھا۔ ا
نہوں نے تاکید کی کہ پانی کی فراہمی روکنے کی دھمکی دینا انسانیت کے خلاف جرم ہے، اور جنگ کے دوران بھی کروڑوں افراد کے لیے پانی کا بہاؤ روکنا ایک سنگین جنگی جرم تصور کیا جاتا ہے۔
وکٹر گاؤ کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ کا منبع ہمالیائی خطہ ہے، اس لیے کسی بھی ملک کو ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جسے وہ خود اپنے خلاف برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاہدے کی شقوں کے مطابق دریائے سندھ کے نظام میں پانی کے بلا تعطل بہاؤ کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے۔
چینی دانشور نے مزید کہا کہ کم از کم آٹھ ممالک ایسے ہیں جو سطح مرتفع تبت سے نکلنے والے دریاؤں کے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ان تمام ممالک کو مشترکہ طور پر سرحد پار آبی وسائل کے مربوط انتظام کے لیے ایک جامع ضابطہ اخلاق تشکیل دینا چاہیے، جسے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی مکمل حمایت حاصل ہو۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر وزیر اعظم شہباز شریف اور خطے کی قیادت امن و استحکام کے لیے اسی مثبت سمت میں پیش رفت جاری رکھتے ہیں، تو وہ مستقبل میں نوبل امن انعام کے مضبوط امیدوار بن سکتے ہیں۔
دیکھیے: بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا یکطرفہ فیصلہ غیر قانونی ہے، اسحاق ڈار