افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان انتظامیہ کے خلاف برسرِپیکار اہم اور سرکردہ مخالف رہنماء ملا جمعہ خان فاتح نے طالبان کے سامنے سرتسلیم خم کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے ایک بڑا سیاسی و عسکری اعلان کیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا ادارے ‘افغان ٹائمز’ کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنی مستقبل کی حکمتِ عملی اور علاقائی گٹھ جوڑ کے حوالے سے اہم ترین پوزیشن واضح کی ہے۔
ملا جمعہ خان فاتح نے دوٹوک انداز میں کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی طالبان کی حکومت کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور اپنی مزاحمت کو ہر صورت برقرار رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی پالیسیاں اور طرزِ حکومت خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے، جس کے خلاف ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔
Badakhshan Taliban Rival Leader Juma Khan Fateh: “We Will Never Surrender” — Ready to Join Pakistan Against the Taliban if It Launches an Offensive.
— Afghan Times (@AfghanTimes7) July 1, 2026
Speaking to an Afghan Times correspondent, Badakhshan Taliban rival leader Mullah Juma Khan Fateh said he would “never surrender”… pic.twitter.com/MSwcKTr057
اس گفتگو کے دوران انہوں نے علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے پاکستان کے حوالے سے بھی ایک اہم پیشکش کی۔ ملا جمعہ خان فاتح نے واضح کیا کہ اگر پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری یا سفارتی کارروائی کی جاتی ہے، تو وہ اور ان کا دھڑا طالبان کے خلاف پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے اور صفِ اول میں کھڑے ہونے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، بدخشاں کے اس اہم رہنما کا یہ بیان افغانستان کے اندرونی حالات اور پاک-افغان تعلقات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جو طالبان انتظامیہ کے خلاف اندرونی سطح پر بڑھتی ہوئی سخت مزاحمت اور نئی ممکنہ صف بندیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں کارروائی پر بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کو پاکستان نے سختی سے مسترد کر دیا